30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(عنقریب ظالم جان جائیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)
تنبیہ ششم:فرض وواجب اور اسی طرح حرام ومکروہ تحریمی میں فرق دربارہ اعتقاد ہے کہ فرض وحرام کا منکر کافر ٹھہرتا ہے۔
|
امامطلقًا کما علیہ ظواھر کلمات الفقہاء الامجاد اوعلی تفصیل فیہ کما علیہ الاعتماد۔ |
یا مطلقًا جیسا کہ بزرگ فقہاء کرام کے ظاہری کلمات اس پر دلالت کرتے ہیں یا اس میں تفصیل ہے جیسا کہ اس پراعتماد ہے۔(ت) |
بخلاف اخیرین،مگر عمل میں دونوں کا ایك حکم مخالف میں گناہ واثم امتثال میں رجائے ثواب خلاف میں استحقاق غضب و عذاب۔کما صرح فی کل کتاب(جیسا کہ تمام کتب میں اس کی صراحت کی گئی ہے۔ت)اہل اسلام اپنے رب کے غضب سے ڈریں اور ان گمراہان گر کی چرب زبانیوں پر تو جہ نہ کریں بالفرض اصطلاح حنفی میں "ف ر ض یا ح را م" کا اختلاف نہ ہوا تو یہ فرض اصطلاحی تمھارے کس کام آئے گا جبکہ غضب جبار وعذاب نار کا استحقاق بہر حال موجود والعیاذ باﷲ الغفور الودود، یقین جانو اس دن کو داڑھی منڈا واحد قہار کے حضور تمھارا حمایتی نہ بنے گا وہ آپ اپنی بھڑکائی آگ میں جلے بھنے گا آئندہ اختیار بدست مختار،مسلمانو! اس کی ٹھیك مثال یہ ہے کہ کوئی گندہ ناپاك بھینس کا گوبر گدھے کی لید کھایا کرے۔جب اس سے کہا جائے تو(۰۰)کھاتا ہے کہے اسے(۰۰)(۰۰)نہیں کہتے یہ تولید گوبر ہے اس نجس سے یہی کہا جائے گا کہ یونہی سہی مگر ہرطرح تیرے منہ میں تو گندگی رہی،مسلمانو! مکروہ تحریمی گناہ صغیرہ سہی مگر بعد اصرار کبیرہ اور ہلکا جانتے ہی فورا اشد کبیرہ۔حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لاصغیرۃ مع الاصرار[1]رواہ فی مسند الفردوس عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ |
اصرار سے کوئی گناہ چھوٹا نہیں ہوجاتا(بلکہ بڑا ہوجاتاہے) دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت عبداﷲ ابن عباس سے اس کو روایت کیا ہے اﷲ تعالٰی ان دونوں سے راضی ہو۔ (ت) |
پھریہ ظالمین براہ چالاکی حرام حرام کی اصطلاح لئے ہوئے ہیں حقیقۃ مباح محض شیر مادر جانتے ہیں جب تو
"وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوۡا ؕ"[2](جب تم حلال ہوجاؤ یعنی احرام کی پابندی ختم ہوجائے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع