30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو شایدکسی کچے جنونی پکے مجنونی کو ایسے جنون جاگتے مجنون لے بھاگتے،مگر حدیث میں تو صراحۃً خود اس خلاف کی شرح فرمادی تھی۔اعفوا الشوارب واعفوا اللحی مشرکین کا یوں خلاف کرو کہ لبیں ترشواؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔اس کے یہ معنٰی لینا کہ ان کا خلاف کرکے بڑھاؤ خواہ ان کی مخالفت کرکے منڈاؤکیسی کھلی تحریف اور کیسا صریح استہزا ء ہے۔اﷲ اکبر مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی وسعت علم جس طرح عجائب قرآن عظیم غیر متناہی ہیں یوہیں عجائب حدیث کی حد نہیں۔کریمہ: "وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ؕوَمَاکُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوۡلًا ﴿۱۵﴾"[1](کوئی بندہ کسی دوسرے بندے کا بوجھ(بروز قیامت) نہیں اٹھائے گا اور ہم جب تك کوئی رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں دیتے یعنی اتمام حجت کے بغیر مبتلائے عذاب نہیں کرتے۔ ت)کے لطائف سے امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے شمار فرمایا کہ دونوں جملے دو۲ ہمشکل مسائل مختلف فیہا کا فیصلہ فرماتے ہیں۔پہلا مسئلہ اطفال مشرکین اور دوسرا اہل فترت پر دلیل شافی ہے ان دونوں کا ایك جگہ ارشاد ہونا نظم قرآنی کے عجب دقیقہ سے ہے ذکرہ فی رسالۃ فی الابوین الکریمین(امام سیوطی نے حضورا کرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے والدین کریمین کے اسلام کے موضوع پر جور سالہ تحریر فرمایا۔اس میں اس کا ذکر فرمایا۔ت)فقیر کہتا ہے امام احمد وطبرانی وضیاء نے ابوامامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
تسرولواوائتزوا وخالفوا اھل الکتاب قصوا سبالکم ووفروا عثانینکم وخالفوا اھل الکتاب [2]۔ |
پاجامہ پہنواور تہبند باندھو اور یہود ونصارٰی کا خلاف کرو اور لبیں ترشواؤ اور داڑھیاں وافر کرو یہود ونصارٰی کا خلاف کرو۔ |
یہود ونصارٰی کے یہاں ستر کچھ ضروری نہیں ان کی قومیں اب تك ننگے نہانے کی عادی ہیں حدیث میں ان دوجملوں کا ایك جگہ ارشاد ہونا ایسے گمراہوں گمراہ پرستوں کے جنون کا کافی علاج ہے جس طرح داڑھی میں مخالفت اہل کتاب کے وہ معنی تراشے یونہی پاجامہ وتہبند میں یہی مطلب پہنائے کہ اہل کتاب ستر عورت کرتے بھی ہیں تو چاہے اس عادت کا خلاف کرکے پاجامہ پہنو چاہے اس کی مخالفت سے ننگے پھرواور پورے مہذب جنٹلمین بنو۔"وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۲۲۷﴾٪"[3]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع