30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)بہت اچھا اگر داڑھی منڈانا حرام نہیں کہ قرآن عظیم میں اس کے احکام نہیں تو جہاں اس پر عمل ہے یہ پوری شرافت کے افعال بھی برت کر دکھادیں کہ ان کی تحریم بھی قرآن میں کہیں نہیں۔پوری ہی گائے نہ کھائیے کہ دین نیچر کے کامل مومن کہلائیے،اچھا نہ سہی قرآن میں کہیں ناك کٹانا بھی حرام نہیں لکھا الانف بالانف(ناك کے بدلے ناک۔ت)میں دوسرے کی ناك کاٹنے پر سزا ہے اپنی قطع کرانے کا ذکر کیا ہے ایك کاٹ کردوسری کہاں سے لائیے گا کہ الانف بالانف کا محل پائیے گا جہاں داڑھی منڈائی ہے۔یہ اونچی گوٹ آنکھوں کی اوٹ جس نے ناحق چہر ہ ناہموار کررکھا ہے اسے بھی دھتابتائیں لوگ چار ابرو کا صفایا بولتے ہیں یہ پانچوں گانٹھ کمیت ہوجائیں خیر آپ اس پر عمل نہ کریں مگر آپ کی تحریر تو ضرور ہانکے پکارے کہے گی کہ دین اسلام ایسا ناقص دین ہے جس میں ناك کٹانا حرام نہیں یا قرآن عظیم ایسی کتاب ہے جس میں ایسے جرموں پر کچھ الزام نہیں۔
تنبیہ سوم: منکر متکبر کا اثبات حرمت میں قرآن عظیم کے ساتھ حدیث متواترومشہور کانام لے دینا محض عیاری ودنیا سازی یاعجب کورانہ تناقض بازی ہے ہم پوچھتے ہیں جو کسی حدیث متواتر یا مشہور میں آئے قرآن عظیم میں بھی موجود ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو حدیث کی کیا حاجت،اور اس تردید سے کیا منفعت اور اگر نہیں توا ب پوچھا جائےگا کہ وہ حکم داخل اخلاق ہے یانہیں۔ اگر ہے تو قرآن عظیم احکام اخلاقی سے خالی اور دین معرض نقص وبے کمالی،اورنہیں تو تمھارا مطلب حاصل کہ ایسے حکم کا شرعی ہونا باطل۔بہت ہو تو مچھلی کا ساشکار سہی،حرمت فرضیت کس نے کہی،مسلمانو! دیکھتے جاؤ کہ ان حضرات کے تمام خیالات کا حاصل بے حاصل وہی ابطال شرع مطہر و اکمال بیقیدی اہل نیچر ہے وبس،" وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۲۲۷﴾٪"[1] (وہ لوگ جو ظالم ہیں انھیں جلد ہی معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس کروٹ پلٹا کھانے والے ہیں۔ت)
تنبیہ چہارم:بعینہٖ اسی دلیل سے اجماع بھی باطل،پھر قیاس کس گنتی شمار میں رہے،اور امر قرآنیہ منکر نے" وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوۡا ؕ "[2] (جب احرام سے نکلو تو شکار کرسکتے ہو۔ت)سے اس کا جواب بھی گھڑدیا۔ہر امر میں یہی احتمال قائم،کیا معلوم کہ یہ انھیں احکام میں ہو جن کا نہ کرنا عقاب درکنار موجب عتاب بھی نہیں پھر ایك یہی چلتا فقرہ تمام نواہی قرآنیہ کو بس ہے کہ جس طرح امر کبھی اباحت کے لئے ہوتا ہے یونہی نہی بھی ارشادی ہوتی ہے غرض ایك ہی کرشمے میں شریعت محمدیہ کے تمام اوامر ونواہی بیکار اور معطل ہو کر رہ گئے۔سچ ہے انسانی آزادی اس کی منادی قید ملت کہاں کی علت،مگر افسوس یہ آنکھوں کے اندھے عقل کے اوندھے سمجھے کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع