30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو حضور کا جو کچھ حکم جو کچھ رائے جو کچھ طریقہ جو کچھ ارشاد ہے سب قرآن عظیم سے ہے " وَ اَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الْمُنۡتَہٰی ﴿ۙ۴۲﴾"[1](یقینا تمھارے پروردگار کی طرف ہی ہر کام کی انتہاء ہے۔ت)سب قرآن عظیم میں ہے " اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوۡحٰی ۙ﴿۴﴾ "[2](وہ تو صرف وحی ہے جو ان پر کی گئی۔ت)مگر حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے علم تام وشامل سے جانا کہ آخر زمانہ میں کچھ بددین مکار بدلگام فاجر ایسے آنے والے ہیں کہ ہمارا جو حکم اپنی اندھی آنکھوں سے بظاہر قرآن میں نہ پائیں گے منکر ہوجائیں گے۔
|
" بَلْ کَذَّبُوۡا بِمَا لَمْ یُحِیۡطُوۡا بِعِلْمِہٖ وَلَمَّا یَاۡتِہِمْ تَاۡوِیۡلُہٗ ؕ کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِہِمْ فَانۡظُرْکَیۡفَ کَانَ عٰقِبَۃُ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۳۹﴾"[3] |
بلکہ انھوں نے اس کو جھٹلایا جس کو بذریعہ علم وہ احاطہ نہ کرسکے حالانکہ ابھی ان کے پاس اس کی کوئی تاویل نہیں آتی تھی۔یونہی ان سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا پھر،دیکھو ظالموں کا کیسا(عبرتناک)انجام ہوا۔(ت) |
لہذا حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے صاف ارشاد فرمایا:
|
الاانی اوتیت القراٰن ومثلہ معہ الا یشك رجل شبعان علی اریکتہ یقول علیکم بھذا القراٰن فما وجد تم فیہ من حلال فاحلوہ وماوجدتم فیہ من حرام فحرموہ وان ماحرم رسول اﷲ کما حرم اﷲ رواہ الائمۃ احمد والدرامی [4] وابوداؤد والترمذی و ابن ماجۃ بالفاظ متقاربۃ عن المقدام بن معدیکرب رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
سن لو مجھے قرآن عطا ہوا اور قرآن کے ساتھ اس کا مثل۔ خبردار نزدیك ہے کہ کوئی پیٹ بھرا اپنے تحت پرپڑا کہے یہی قرآن لئے رہو اس میں جوحلال پاؤ اسے حلال جانو جو حرام پاؤ اسے حرام جانو،حالانکہ جو چیز رسول اﷲ نے حرام کی وہ اسی کی مثل ہے جو اﷲ نے حرام فرمائی۔(ائمہ کرام مثلا امام احمد، دارمی،ابوداؤد،ترمذی اور ابن ماجہ نے تقریبا ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ مقدام بن معدیکرب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اس کو روایت کیاہے۔ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع