30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وسلم وسلم کے ارشاد۔
تنبیہ: طلق سے ان کا قول بھی دونوں طرح مروی۔نسائی [1]نے بسند صحیح ان سے دس کامل روایت کیں جن میں توفیر اللحیہ موجود۔
(۱۰)لطف برلطف یہ کہ ان سب نے اس کی جگہ مانگ روایت کی۔اﷲ اﷲ اتنا بے ادراك اور ایسا بیبیاک،ذرا کسی ذی علم سے عبارت ابی داؤد کا ترجمہ کراکر دیکھئے کہ وہ مانگ کا ذکرصرف اثرابن عباس میں بتاتے ہیں یا ان سب کی روایت یہی ٹھہراتے ہیں۔بے علم کے نزدیك گویا عدم ذکر اعفاء لحیہ کے معنی ہی یہ ٹھہرے ہیں کہ اس کی جگہ مانگ کا ذکر کیا۔
(۱۱)جب جہالت کی یہ حالت تو اس کی کیا شکایت کہ اپنے اس زعم باطل میں فرق واعفاء کا ذکر وشمار میں تبادل سمجھ کر دونوں کا حکم یکساں ٹھہرادیا۔ایسا ہوتا بھی تو اس کاحاصل صرف اتنا نکلتا کہ جس بات کا یہاں تذکرہ ہے یعنی خصال فطرت سے ہونا،اس میں دونوں شریك ہیں نہ یہ کہ سب احکام میں یکساں ہیں۔ عمدۃ القاری وفتح الباری وارشاد الساری شروح صحیح بخاری وغیرہا کتب کثیرہ میں ہے:
|
واللفظ للخطیب ھذا الخصال منھا ماھو واجب کالختان وما ھومندوب ولا مانع من اقتران الواجب بغیرہ کما قال تعالٰی کلوا من ثمرہ اذا اثمر واتواحقہ یوم حصادہ فایتاء الحق واجب والاکل مباح[2] |
الفاظ خطیب بغدادی کے ہیں ان خصائل میں سے بعض واجب ہیں جیسے ختنہ،اور بعض مستحب ہیں،اور کسی واجب کو دوسرے کے ساتھ جوڑنے اور ملانے میں کوئی مانع نہیں جیسا کہ اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:کھاؤ ان کا پھل جب وہ پھل لائیں اور کٹائی کے دن ان کا حق ادا کرو(یہاں آیت میں)حق ادا کرنا واجب ہے جبکہ کھانا مباح ہے(یہاں واجب،غیر واجب دونوں کا یکجا ذکر ہوا)۔(ت) |
(۱۲)پھر چالاکی یہ کہ اس کے متصل جوا مام ابوداؤد نے دوسری حدیث مرفوع حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم او ر ایك اثر امام ابراہیم نخعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا ذکر کیا کہ ان میں بھی داڑھی بڑھانے کو شمار فرمایا:ناقل عاقل اسے اڑا گیا۔عبارت سنن یہ ہے:
|
وفی حدیث محمد بن عبداﷲ بن ابی مریم عن ابی سلمۃ عن ابی ھریرۃ عن |
محمد بن عبداﷲ بن ابن مریم کی حدیث میں بواسطہ ابو سلمہ حضرت ابوہرہرہ سے روایت ہے کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع