30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الشیخان [1] عن جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
نہ ملیں(امام بخاری ومسلم نے حضرت جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت) |
ایك حدیث میں ہے:
|
فضلت علی الانبیاء بخصلتین۔البزار [2]عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
میں انبیاء پردوباتوں میں فضیلت دیا گیا۔(بزار نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راویت کیا۔ت) |
دوسری میں ہے:
|
ان جبرئیل بشرنی بعشر لم یؤتھن نبی قبلی [3]ا بن ابی حاتم وعثمان الدارمی وابونعیم عن عبادۃ بن الصامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
جبریل نے مجھے دس چیزوں کی بشارت دی کہ مجھ سے پہلے کسی کو نہ ملیں۔(ابن ابی حاتم وعثمان الدارمی وابونعیم نے عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت) |
طرفہ یہ کہ ان سب احادیث نہ صرف عدد کہ معدود بھی مختلف ہیں کسی میں کچھ فضائل شمار کے گئے کسی میں کچھ کیا یہ حدیثیں معاذا ﷲ باہم متعارض سمجھی جائیں گی یا دو یا دس میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی فضیلتیں منحصر،حاش ﷲ ان کے فضائل نامقصور اور خصائص نامحصور،بلکہ حقیقۃً ہر کمال ہر فضل ہر خوبی میں عموما اطلاقا انھیں تمام انبیاء مرسلین وخلق اﷲ اجمعین پر تفضیل تام وعام مطلق ہے کہ جو کسی کو ملا وہ سب انھیں سے ملا اور جو انھیں ملا وہ کسی کو نہ ملا، ع
آنچہ خوباں ہمہ دارند توتنہا داری
(یارسول اللہ! جو جوخوبیاں تمام انبیاء کو دی گئیں وہ تمام تنہاآپ کو دے دی گئیں۔ت)
بلکہ انصافًا جو کسی کو ملا آخر کس سے ملا،کس کے ہاتھ سے ملا،کس کے طفیل سے ملا،کس کے پرتوسے ملا،سی اصل ہر فضل ومنبع ہر جو دوسرا ایجادو تخم وجود سے۔صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع