30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جس مشرك کی چاہیں مخالفت کریں باقی رہا اس کا جواب"وقصواالشوارب واعفوا للحی"(مونچھیں کتراؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔ت)مخفی نہ رہے کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ہمیشہ درستگی اخلاق کے واسطے مبعوث ہوئے،اسی لئے ہمارے پیغمبر آخر زمان بھی مبعوث ہوئے،ان پر دین کا مل اور نبوت ختم ہوگئی۔"اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیۡنَکُمْ"[1] آج کے دن ہم نے تمھارا دین تم پر کامل کردیا۔داڑھی بڑھانا اخلاق میں داخل ہے تو باوجود اس کے قرآن کامل کتاب اﷲ کی ہے۔اخلاقی احکام سے خالی ہے تو دین کامل نہ ٹھہرا۔لامحالہ کہنا پڑے گا کہ یہ اخلاق میں داخل نہیں اوراس سے ہمارا مطلب حاصل ہوجاتاہے۔
داڑھی بڑھانا مستحب البتہ ہے یا بہت ہوگا تو سنت۔لیکن یہ بھی حداعتدال تك ؎
ریش بایدت دوسہ موئے وزنخداں پوشی نہ کہ درسا یہ اوبچہ دہد خر گوشی
(تجھے ایسی داڑھی چاہئے کہ جس کے چند بال ہوں جو ٹھوڑی چھپادیں۔نہ کہ ایسی کہ جس کے سائے میں خرگوش بچہ دے۔ت)
قول عرب ہے:
|
من طال لحیتہ فقد نقص عقلہ۔ |
جس کی داڑھی طویل(لمبی)ہو اس کی عقل کم ہوتی ہے۔(ت) |
بغرض محال تسلیم بھی کرلیں کہ داڑھی بڑھانا فرض یا منڈوانا حرام ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ اﷲ تعالٰی فرماتاہے:
"وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوۡا ؕ"[2] (یعنی احرام سے فارغ ہونے کے بعد شکار کرو۔شکار کرنا صیغہ امر میں فرمایا گیا جو علامت فرضیت ہے لیکن آج تك اس پر عمل درآمد نہ ہوا،سبب اس کا یہ ہے کہ یہ حکم طبائع پر موقوف رکھا گیا کہ جی چاہے تو شکارکرو ۔
حاصل یہ کہ شریعت کے بعض احکام ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا نہ کرنا موجب عتاب شرعی نہیں۔فرضیت یا حرمت قرآن ہی سے ثابت ہوسکتی ہے یا حدیث متواتر یا مشہور ہو،حرام فرض کے مقابلہ میں آتاہے۔تو جب داڑھی منڈانا حرام ہوا تو رکھنا فرض ہوا مگر فرض کسی نے نہ لکھا ؎
زقرآن سخن گفتہ ام وزحدیث سر از من نہ پیچد جزاب لہ خبیث
سخن راست گر تو بگوئی ہمے بدست حقائق بپوئی ہمے
پس اعفائے لحیہ چر اگوئی فرض تنت راخباثت مگر گشت مرض
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع