30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۴)یہ کہ لبوں کے بال بڑھے ہوئے شخص کا جھونٹا پانی وغیرہ پینا کیساہے؟
(۵)یہ کہ ایسے لوگوں کی نسبت یعنی داڑھی منڈوانے والے،کترنے والے۔لبوں کے بال بڑھانے والے کس خطا کے مرتکب ہیں ان کی نسبت کیا حکم ہے؟
(۶)یہ کہ مثل داڑھی کے مقدار کے لبوں کے بال کی بابت کہ کس قد ر ہوں کیا حکم ہے؟ اگر کوئی شخص لبوں کے بال منڈوائے یا بہت باریك کرے تو کیا قباحت ہے؟
الجواب:
(۱)داڑھی کا طول ایك مشت یعنی ٹھوڑی سے نیچے چار انگل چاہئے اس سے کم کرانا حرام ہے۔
(۲)قینیچی سے کترے خواہ استرے سےلے سب یکساں ہے،ہاں تھوڑی کترنے سے سب منڈا دینا سخت وخبیث تر ہے کہ حرام حرام میں فرق ہوتا ہے۔بھنگ،چرس،شراب سب حرام ہیں مگر شراب سب میں بدتر ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۳)شریعت پر کسی کا قول وفعل حجت نہیں۔اﷲ ورسول سب پر حاکم ہیں اﷲ ورسول پرکوئی حاکم نہیں،یہ فعل وہاں کے جاہلوں کا ہے اور جاہلوں کا فعل سند نہیں ہوسکتا کہیں کے ہوں،ایسا کہنے والا اگر جاہل ہے اسے سمجھا دیا جائے او ر اگر ذی علم ہو کر ایسا کہتا ہے یاسمجھانے کے بعد بھی نہ مانے اصرار کئے جائے وہ سخت فاسق وگمراہ ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۴)اگر اسے وضو نہ تھا اس حالت میں اس نے پانی پیا اور لبوں کے بال پانی کو لگے تو پانی مستعمل ہوگیا۔مستعمل پانی کا پینا ہمارے امام رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے اصل مذہب میں حرام ہے۔ان کے نزدیك وہ پانی ناپاك ہوگیا خود اس نے جو پیا ناپاك پیا اور اب جو پئے گا ناپاك پئے گا۔اور مذہب مفتٰی بہ پر مستعمل پانی کا پینا مکروہ ہے۔اس نے جو پیا مکروہ پیااور اب جو بچا ہوا پئے گا مکروہ پئے گا۔ہاں اگر اسے وضو تھا یا منہ دھلا تھا تو شرعًا حرج نہیں۔اگرچہ اس کی مونچھوں کا دھوون پینے سے قلب کراہت کرے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۵)حد شرع سے کم داڑھی رکھنا حد شرع سے زیادہ مونچھیں رکھنا سب خلاف شرع اور مجوسیوں کی سنت اور نصرانیوں کی عادت ہے آدمی اس سے گنہگار ہوتاہے اور اس کی عادت رکھنے سے فاسق ہوجاتا ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۶)لبوں کی نسبت یہ حکم ہے کہ لبیں پست کرو کہ نہ ہونے کے قریب ہوں البتہ منڈاونا نہ چاہئے اس میں علماء کو اختلاف ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
_________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع