30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہاں اگر یہاں بال اس قدر طویل وانبوہ ہو کہ کھانا کھانے،پانی پینے،کلی کرنے میں مزاحمت کریں تو ان کا قینچی سے بقدر حاجت کم کردینا روا ہے۔خزانۃ الروایات میں تتارخانیہ سے ہے:
|
یجوز قص الاشعار التی کانت من الفنیکین اذا زحمت فی المضمضۃ او الاکل اوالشرب [1]۔ |
زیریں لب کے دونوں کناروں کے بال کترنے جائز ہیں جبکہ کلی کرنے اور کھانے پینے میں رکاوٹ ہوں۔(ت) |
یہ روایت بھی دلیل واضح ہے کہ بغیر اس مزاحمت کے ان بالوں کا کترنا بھی ممنوع ہے نہ کہ مونڈنا فان المفاھیم معتبرۃ فی الکتب وکلام العلماء وبالاجماع ھذا ماعندی(کیونکہ مفہوم مخالف،کتابوں،کلام علماء میں ساتھ اجماع کے معتبر ہے میرے نزدیك تو یہی ہے۔ت)واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
جواب سوال سوم:یہ نئی نئی تراشیں سب خلاف سنت ہیں۔
|
فی الہندیۃ عن التتارخانیہ عن الروضۃ ان السنۃ فی شعر الراس اما الفرق واما الحلق [2]۔ |
فتاوٰی ہندیہ میں تتارخانیہ سے اور تتارخانیہ نے الروضہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے سر کے بالوں کو مونڈڈالنا یا بال رکھ کر ان میں مانگ نکالنا دونوں سنت عمل ہیں۔(ت) |
گردن کی صفائی سے اگر قفا یعنی گدی کے بال منڈانا مراد ہے جس طرح آج کل بعض جہال کا معمول،تو یہ صرف پچھنوں کی ضرورت سے جائز ہے۔بلاضرورت مکروہ۔
|
فی الہندیہ عن الینابیع عن الامام الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ یکرہ ان یحلق کفاہ الا عند الحجامۃ [3]۔ |
فتاوٰی ہندیہ میں ینابیع کے حوالے سے حضرت امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے حوالے سے روایت ہے کہ گدی کے بال مونڈنا مکروہ ہیں سوائے پچھنے لگوانے کی ضرورت کے۔(ت) |
اوراگر ان رونگٹوں کا صاف کرنا مقصود جو گدی کے نیچے صفحہ گردن پر تھوڑے تھوڑے متفرق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع