30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قولہ السفلی وظاھر ان الاثر فی ذٰلك لخصوص النتف ففی معناہ الحلق وانما وقع التعبیر بہ نظرا الی ماکانوا تعودوہ کما فی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لا تنتفوا الشیب[1] وقول الفقہاء یکرہ نتف الشیئ مع کراھۃ قصہ ایضا لشمول العلۃ وبہ تبین ان ماوقع فی المدارج الشریفۃ من ان فی حلق العنفقۃ وترکھا خلافا والا فضل ترکھا اماحلق طرفیھا فلا باس بہ [2]اھ معربا محل تأمل حیث افادہ بظاھرہ کراھۃ التنزیہ وبمقابلتہ بافضلیۃ الترك الاباحۃ الخالصۃ مع ان العنفقۃ وطرفیھا جمیعا من اجزاء اللحیۃ وھی واجبۃ الاعفاء فلا ینبغی الاقدام علی ذٰلك مالم یثبت من حدیث صحیح اونص من امام المذہب صریح فلیتأمل۔ |
کوٹھوں کے بال اکھاڑنے والا تھا آپ نے اس کی گواہی رد کردی۔ فتاوٰی غرائب سے فتاوٰی عالمگیری میں اس کا قول "السفلی"تك نقل کیا گیا۔اور ظاہر یہ ہے کہ اس میں اکھاڑنے کی خصوصیت کا کوئی اثر نہیں پس اسی کے معنی میں"حلق"ہے یعنی بال مونڈنا ہے۔اور بال اکھاڑنے سے تعبیر ان کی عادت کے مطابق واقع ہوئی ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد مبارك ہے:سفید بال نہ اکھاڑا کرو۔ اور فقہائے کرام کا ارشادس فید بال اکھاڑنے مکروہ ہیں۔باوجود یہ کہ ان کے کترنے میں بھی کراہت ہے کیونکہ علت دونوں کو شامل ہے۔اس سے واضح ہوگیا کہ جو کچھ مدارج شر یف میں وار دہے وہ محل تامل یعنی غور وفکر کے لائق ہے کہ عنفقہ کے بال مونڈنے اور نہ مونڈنے میں اختلاف ہے اور بہتر یہ ہے کہ نہ مونڈے جائیں۔لیکن دونوں کناروں کے بال مونڈ دینے میں کوئی حرج نہیں(معرب عبارت پوری ہوگئی)کیونکہ شیخ کی عبارت کا بظاہر مفاد کراہت تنزیہی ہے اور اس کا تقابل"ترك افضل"خالص اباحت بتا رہا ہے حالانکہ عنفقہ اور داڑھی کی دونوں اطراف اجزائے داڑھی میں شامل ہیں اور ان کا چھوڑنا واجب ہے۔لہذا اس پر جرأت اقدام کسی طرح مناسب نہیں جب تك کسی حدیث صحیح سے یاامام مذہب کی طرف سے کسی صریح نص کے ساتھ ثابت نہ ہو،پس اس میں گہری سوچ سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع