30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مالم یتشبہ بالمخنث کذا فی الینابیع [1] واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کوئی حرج نہیں بشرطیکہ ہجڑوں سے مشابہت پیدا نہ ہو،اسی طرح ینابیع میں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
جواب سوال دوم:یہ بال بداہۃ سلسلہ ریش میں واقع ہیں کہ اس سے کسی طرح امتیاز نہیں رکھتے تو انھیں داڑھی سے جدا ٹھہرانے کی کوئی وجہ وجیہ نہیں۔وسط میں جو بال ذرا سے چھوڑے جاتے ہیں جنھیں عربی میں عنفقۃ اور ہندی میں بچی کہتے ہیں۔داخل ریش ہیں کما نص علیہ الامام العینی وعنہ نقل فی السیرۃ الشامیۃ(جیسا کہ امام بدرالدین عینی نے اس کی تصریح فرمائی اور ان سے سیرت شامیہ میں نقل کیا گیا۔ت)ولہذا امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہوا کہ جو کوئی انھیں منڈاتا اس کی گواہی رد فرماتے کما ذکرہ الشیخ المحدث فی مدارج النبوۃ(جیسا کہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے مدارج النبوۃ میں ذکر فرمایا۔ت)تو بیچ میں یہ دونوں طرف کے بال جنھیں عربی میں فنیکین ہندی میں کوٹھے کہتے ہیں کیونکر داڑھی سے خارج ہوسکتے ہیں داڑھی کے باب میں حکم احکم حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اعفواللحی واوفرواللحی[2](داڑھیاں بڑھاؤ اور زیادہ کرو۔ت)ہے تو اس کے کسی جز کا مونڈنا جائز نہیں۔ لاجرم علماء نے تصریح فرمائی کہ کوٹھوں کا نتف یعنی اکھیڑنا بدعت ہے امیر المومنین عمر ابن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ایسے شخص کی گواہی رد فرمائی۔ غرائب میں ہے:
|
نتف الفنیکین بدعۃ وھو جنبا العنفقۃ وھی شعر الشفۃ السفلی[3] وشھد رجل عند عمر بن عبدالعزیز وکان ینتف فنیکیہ فرد شہادتہ [4] اھ وعنھا نقل فی الھندیۃ الی |
دونوں کوٹھوں کو اکھاڑنا بدعت ہے اور وہ عنفقہ(بچی)کے دونوں جانب کے بال ہیں اور عنفقۃ لب زیریں کے بال ہیں، ایك شخص نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کی عدالت میں (کسی معاملے میں)گواہی دی اور وہ شخص دونوں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع