30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
جواب سوال اول:داڑھی قلموں کے نیچے سے کنپٹیوں،جبڑوں،ٹھوڑی پر جمتی ہے اور عرضا اس کا بالائی حصہ کانوں اور گالوں کے بیچ میں ہوتا ہے جس طرح بعض لوگوں کے کانوں پر رونگٹے ہوتے ہیں وہ داڑھی سے خارج ہیں،یوں ہی گالوں پر جو خفیف بال کسی کے کم کسی کے آنکھوں تك نکلتے ہیں وہ بھی داڑھی میں داخل نہیں یہ بال قدرتی طور پر موئے ریش سے جدا ممتاز ہوتے ہیں اس کا مسلسل راستہ جو قلموں کے نیچے سے ایك مخروطی شکل پر جانب ذقن جاتا ہے یہ بال اس راہ سے جداہوتے ہیں نہ ان میں موئے محاسن کے مثل قوت نامیہ ان کے صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ بسا اوقات ان کی پرورش باعث تشویہ خلق وتقبیح صورت ہوتی ہے جو شرعا ہر گز پسندیدہ نہیں،غرائب میں ہے:
|
کان ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما یقول للحلاق بلغ العظٰمین فانھما منتھی اللحیۃ یعنی حدھا ولذٰلك سمیت لحیۃ لان حدھا اللحی[1]۔ |
حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما حجام سے فرمایا کرتے تھے کہ دو ہڈیوں تك پہنچ جا،کیونکہ وہ دونوں داڑھی کی حدود یعنی آخری حصہ ہیں اسی لئے داڑھی کو"لحیہ"کہاگیا ہے کیونکہ اس کی حدود جبڑے(اللحی)تك ہیں۔ت) |
عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری باب تقلیم الاظفار میں تعریف علامہ ابن حجر ھی اسم لما نبت علی الخدین والذقن(داڑھی دراصل ان بالوں کا نام ہے جو دو رخساروں اور ٹھوڑی پر اگتے ہیں۔ت)کو موہوم پاکر اس پر اعتراض فرمایا:
|
قلت علی الخدین لیس بشیئ ولو قال علی العارضین لکان صوابا اھ [2]۔ |
یعنی میں ابن حجر کہتاہوں،کہ علی الخدین(دونوں رخساروں پر)کہنا ٹھیك نہیں البتہ علی العارضین(دونوں گالوں پر)کہتے تو ٹھیك ہوتا اھ(ت) |
فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
|
لابأس باخذ الحاجبین وشعروجہہ |
دوابروؤں اور چہرے کے بالوں کو کاٹنے میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع