30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
چہار انگشت بود طبعا یعنی ہمیں مقدار بود از روئے خلقت ودراز وکم نمی شد بریں یافتہ نمی شود [1]۔ |
وظائف النبی میں کہا گیا کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ریش مبارك چار انگشت کے بقدر تھی یعنی قدرتی طور پر ہی مٹھی بھر تھی۔اور گھٹتی بڑھتی نہ تھی پس اس کا حوالہ نہیں پایا گیا۔(ت) |
ہاں ظاہر کلمات مذکورہ علمایہ ہے کہ ریش انور مقدار قبضہ پر رہتی تھی جب زیادہ ہوتی کم فرمادیتے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم،اور شفا شریف میں امام قاضی عیاض رحمہ اﷲ تعالٰی علیہ کا ارشاد کث اللحیۃ تملؤ صدرہ [2](حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی داڑھی مبارك گنجان تھی جو سینہ مبارك پر چھائی ہوتی تھی۔ت)اس کے منافی نہیں جبکہ صدر سے نحر یعنی اعلائے صدر مراد ہو۔نسیم الریاض میں زیر قول مذکور متن ہے:
|
مثلہ قولھم قد ملأت نحرہ ونحر الصدر اعلاہ او موضع القلادۃ منہ فمراد المصنف رحمہ اﷲ تعالٰی اعلی الصدر والا لطالت وقد ثبت قصرھا [3] الخ فاحفظہ فانہ مھم واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے ملأت نحرہ یعنی اس سے ان کا نحر بھر جاتا تھا اور سینے کا نحر اس کا بالائی حصہ ہوتا ہے یا سینے کی جگہ ہے لہذا مصنف رحمۃ اﷲ علیہ کی مراد سینے کا اوپر والاحصہ ہے ورنہ آپ کی مقدس داڑھی کہ طویل ماننا پڑے گا جو خلاف واقعہ ہے اور اس کا کترنا بھی ثابت ہے الخ،لہذا یہ نکتہ ذہن نشین رہنا چاہئے اس لئے کہ یہ ضروری ہے،اور اﷲ تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے۔(ت) |
جواب سوال چہارم:ریش مبارك امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم کی نسبت مدارج سے گزرا:پر می کرد سینہ اُورا [4](ان کے سینے کو بھردیتی تھی۔ت)مگر اس میں وہی احتمال قائم کہ سینہ سے مراد سینہ کا بالائی حصہ متصل گلو ہوتو ایك مشت سے زیادت پر دلیل نہ ہوگی۔
[1] مدارج النبوۃ باب اول بیان لحیہ شریف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۱۴
[2] الشفاء بتعریف المصطفٰی الباب الثانی فصل الثالث المطبعۃ الشرکۃ الصحافۃ ۱/ ۵۰
[3] نسیم الریاض الباب الثانی مبحث شمائلۃ الشریفۃ ادارۃ تالیفات اشرفیہ ملتان ۱/ ۳۳۱
[4] مدارج النبوۃ باب اول بیان لحیہ شریف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۱۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع