30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب سوال دوم:جامع الترمذی شریف میں حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے مروی:
|
ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یاخذ من لحیتہ من عرضھا وطولھا [1]۔ |
یعنی حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اپنی ریش مبارك کے بال عرض وطول سے لیتے تھے۔ |
علماء فرماتے ہیں یہ اس وقت ہوتا تھا جب ریش اقدس ایك مشت سے تجاوز فرماتی۔بلکہ بعض نے یہ قید نفس حدیث میں ذکر کی کما نقل عن التنویر والمفاتیح والغرائب(جیسا کہ تنویر،مفاتیح اور غرائب سے نقل کیا گیا ہے۔ت)مرقاۃ شریف میں ہے:
|
قید الحدیث فی شرح الشرعۃ بقولہ اذا زاد علی قدرا القبضۃ وجعلہ فی التنویر من نفس الحدیث وزاد فی الشرعۃ وکان یفعل ذٰلك فی الخمیس والجمعۃ ولایترکہ مدۃ طویلۃ [2]۔ |
حدیث میں قید"الشرعۃ"کی شرح میں اس قول سے مذکور ہے جب آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی داڑھی مبارك کے بال قدر مشت سے زائد ہوجاتے تو آپ زائد بالوں کو کتروادیتے تھے،اور"تنویر"میں قید مذکور کو نفس حدیث قرار دیا گیاہے۔اور"الشرعۃ"میں اتنا اضافہ ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بروز جمعہ یا جمعرات کوایسا کرتے تھے اور زیادہ عرصہ نہیں چھوڑتے تھے۔(ت) |
ہمارے علماء کے اقوال گزرے کہ قبضہ سے زیادہ کا تراشنا سنت ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ا ور اﷲ تعالٰی سب سے زیادہ علم رکھتاہے۔ت)
جواب سوال سوم:یہ امر محض بے اصل ہے۔حدیث مذکور ترمذی اس کا صریح رد ہے کہ اگرقبضہ سے کبھی زائد نہ ہوتی تو عرض وطول سے لینا کیونکر متصورتھا۔مدارج النبوۃ میں ہے:
|
درلحیۃ شریف در طول قدرے معین در کتب بنظر نمی آید ودر وظائف النبی گفتہ کہ لحیہ آن حضرت صلی تعالٰی علیہ وسلم |
حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی داڑھی مبارك کی کسی معین مقدار پر درازی کا ذکر مشہور کتابوں میں سے کسی ایك میں بھی نظر سے نہیں گزرا البتہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع