30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہایۃ سے منقول:
|
بہ اخذ ابوحنیفۃ وابویوسف ومحمد[1] کذا ذکرا بوالیسر فی جامعہ الصغیر۔ |
اسی کو حضرت امام ابوحنیفہ،قاضی ابویوسف،اورامام محمد نے اختیار کیا ہے۔اسی طرح ابوالیسر نے اس کو جامع صغیر میں ذکر کیا ہے۔(ت) |
مرقاۃ باب الترجل میں ہے:
|
مقدار قبضہ علی ماھوا لسنۃ والاعتدال المتعارف [2]۔ |
مقدار مشت ہی سنت ہے اور مشہور مبنی برمیانہ روی ہے اور یہی راہ اعتدال ہے۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
صرح فی النہایۃ بوجوب قطع مازاد علی القبضۃ بالضم ومقتضاہ الاثم بترکہ الاان یحمل الوجوب علی الثبوت [3] |
نہایہ میں تصریح کی گئی ہے کہ داڑھی کے جو بال مقدار مشت سے زیادہ ہوں انھیں کترڈالنا واجب ہے(القُبضہ میں"ق" حرکت پیش کے ساتھ ہے)اس کا مقتضٰی یہ ہے کہ اس کا ترك یعنی ایسا نہ کرنا گناہ ہے مگر یہ کہ یہاں وجوب سے ثبوت مرادلیا جائے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قولہ صرح فی النھایۃ ومثلہ فی المعراج وقد نقلہ عنہا فی الفتح و اقرہ قال فی النھر وسمعت من بعض اعزاء الموالی ان قول النھایۃ یحب بالحاء المھملۃ ولا باس بہ اھ قال الشیخ اسمٰعیل |
مصنف کا قول"صرح فی النھایۃ"اور یونہی معراج الدرایہ میں بھی ہے،اور محقق ابن الہمام نے اسی نہایہ سے نقل کرکے اس کو برقرار رکھا ہے،النہر میں فرمایا میں نے(بعض موالی کی نسبت کرنے سے)سنا ہے کہ النہایۃ کا یحب کہنا صرف حابے نقطہ کے ساتھ ہے اور اس میں کچھ حرج نہیں اھ شیخ اسمعیل نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع