30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علامہ خفاجی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں:
|
المراد من ذٰلك عدم طولھا جدا لما ورد فی ذمہ [1]۔ |
یقینًا اس سے مراد غیر طویل ہے کیونکہ اس کی مذمت میں حدیث واردہوئی ہے۔(ت) |
امام حجۃ الاسلام غزالی احیاء العلوم پھر مولانا علی قاری مرقاۃ میں فرماتے ہیں:
|
قد اختلفوا فیما طال من اللحیۃ فقیل ان قبض الرجل علی لحیتہ واخذ ماتحت القبضۃ فلا باس بہ و قد فعلہ ابن عمر و جماعۃ من التابعین واستحسنہ الشعبی و ابن سیرین وکرھہ الحسن وقتادۃ ومن تبعھما وقالواترکھا عافیۃ احب لقولہ علیہ الصلوٰۃ و السلام اعفوا اللحی لکن الظاھر ھوالقول الاول فان الطول المفرط یشوہ الخلقۃ ویطلق السنۃ المغتابین بالنسبۃ الیہ فلا باس للاحتراز عنہ علی ہذہ النیۃ، قال النخعی عجبت لرجل عاقل طویل اللحیۃ کیف لایاخذ من لحیتہ فیجعلھا بین لحیتین ای طویل و قصیر فان التوسط من کل شیئ احسن ومنہ قیل خیر الامور اوسطھا ومن ثم قیل کلما طالت اللحیۃ نقص العقل [2]۔ |
بے شك داڑھی کے دراز حصہ میں(یعنی اس کی درازی کے بارے میں)اہل علم نے اختلاف کیا ہے پس یہ کہا گیا ہے کہ اگر کوئی مرد اپنی مشت بھر داڑھی کو پکڑ کر مشت سے زائدبالوں کو کاٹ ڈالے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما اور حضرات تابعین کے ایك گروہ نے اس طرح کیا تھا اور امام شعبی اور محمد بن سیرین نے اس کو اچھا سمجھا البتہ حضرت حسن بصری اور امام قتادہ اور ان کے ہمنوا لوگوں نے اس کو مکروہ کہا اور انھوں نے فرمایا کہ اسے بڑھتے ہوئے چھوڑ دینا زیادہ مناسب اور پسندیدہ بات ہے،حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ داڑھیاں بڑھاؤ،لیکن ظاہر وہی پہلی بات ہے کیونکہ فحش درازی صورت کوبد نمابنادے گی اور اس کی نسبت (لوگوں کی)زبانیں درازہوجائیں گی پھر اس نیت سے اس سے بچنے میں کوئی حرج نہیں پھر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ اگر کوئی عقلمند آدمی لمبی داڑھی والا ہو یعنی اس کی داڑھی زیادہ لمبی ہونے لگے تو وہ کیونکر داڑھی نہ تراشے گا،پھروہ لمبی اور چھوٹی دوقسم کی داڑھیوں کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع