30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اشعۃ اللمعات میں زیر حدیث صحیحین:
|
عن نافع عن ابن عمر قال سمعت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نھی عن القزع قیل لنافع ما القزع قال یحلق بعض رأس الصبی ویترك البعض۔ |
بحوالہ حضرت نافع حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ میں نے حضور علیہ السلام نے سنا کہ آپ نے قزع سے منع فرمایا حضرت نافع سے پوچھا گیا کہ قزع کیا ہوتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا قزع یہ ہے کہ بچہ کے سر کے کچھ بال مونڈدیئے جائیں اور کچھ رہنے دیئے جائیں۔(ت) |
تحریر فرمایا:
|
گفتہ اند قزع حلق راس است از مواضع متفرقہ آں واگر چہ ظاہر عبارت کہ در تفسیر وے واقع شدہ مطلق است ولیکن شراح ہمہ تصریح کردہ اند بایں قید ودر روایت فقہیہ نیز ہمچنیں آمدہ است [1]۔ |
کہتے ہیں کہ"قزع"سر کے بالوں کو مختلف مقامات سے مونڈ ڈالنا ہوتاہے اگر چہ بظاہر وہ عبارت جو تفسیر"قزع"میں واقع ہوئی ہے وہ مطلق ہے لیکن تمام شارحین نے اس قید کا صراحتا ذکر کیا ہے(قید یہ ہے کہ سر کے مختلف حصے مونڈ دیئے جائیں)اور فقہی روایات میں بھی یونہی آیا ہے۔(ت) |
شرح شمائل شریف میں ہے:
|
لم یروتقصیر الشعر منہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الامرۃ واحدۃ [2] الخ۔ |
حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے با ل کترنے صرف ایك ہی مرتبہ مروی ہیں۔(ت) |
عالمگیری میں ہے:
|
عن ابی حنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی یکرہ ان یحلق قفاہ الا عند الحجامۃکذا فی |
امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے مروی ہے کہ گدی کے بال مونڈنا مکروہ ہے مگر پچھنے لگوانے کی صور ت میں جائز ہیں۔یونہی الینابیع |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع