30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اﷲ تعالٰی اجر دے گا فقط۔
الجواب:
تالو کے بال منڈانا جس طرح یہاں کے لوگوں عادت ہے بشرطیکہ پیشانی کے بال باقی رکھے جائیں جسے پان بنوانا کہتے ہیں جائز ہے مگر اولٰی نہیں۔ہاں متفرق مواضع سے قطعے قطعے منڈوانا جیسا کہ بعض لوگ کرتے ہیں بیچ سرمنڈوادیا آس پاس کے بال چھوڑدئے اور کنپٹیوں پر ببریاں رکھیں آس پاس منڈوادئے اور گدی پر ایك قطعہ بالوں کا چھوڑا دہنے بائیں حلق کئے اسے عربی میں قزع کہتے ہیں اور وہ ممنوع ہے بالوں کی نسبت شرع مطہر میں صرف دو۲ طریقے آئے ہیں:
ایك یہ کہ سارے سر پررکھیں اور مانگ نکالیں۔یہ خاص سنت حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ہے۔حج وحجامت یعنی پچھنوں کی ضرورت کے سوا حضور والا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے حلق شعر ثابت نہیں۔حضو ر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے دس سال مدینہ میں قیام فرمایا اس مدت میں صرف تین بار یعنی سال حدیبیہ وعمرۃ القضاء وحجۃ الوداع میں حلق فرمایا علی مانقلہ علی القاری فی جمع [1]الوسائل عن بعض شراح المصابیح(جیسا کہ ملاعلی قاری نے مصابیح کے بعض شارحین سے جمع الوسائل میں نقص کیا ہے۔ت)
دوسرے یہ کہ سارا سرمنڈائیں یہ حضرت سیدنا مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کی عادت تھی وہ جناب بخوف جنابت کہ مبادا نہانے میں کوئی بال پانی بہنے سے باقی نہ رہ جائے حلق فرمایا کرتے ان کے سوا جتنے طریقے ہیں سب خلاف سنت اور یہ نئی نئی تراشیں ایك ایك انگل کے بال رکھنا جب اس سے بڑھیں کتروادینا یا آگے سے بڑے پیچھے سے کترے ہوئے یا وسط تالو سے پیشانی تك کھلوادینا یا گدی کے بال منڈانا یا پیشانی سے گدی تك سڑك نکالنا یامنڈے سرخواہ بالوں کی حالت میں یعنی چوڑی قلمیں بڑھا کر رخساروں پر جھکانا یا داڑھی میں ملادینا،یہ باتیں مخالف سنت وخلاف وضع صلحائے مسلمین ہونے کے علاوہ ان میں اکثر اقوام کفار کی ایجاد ہیں جن کی مشابہت سے مسلمانوں کو بچناچا ہئے۔ردالمحتارمیں ہے:
|
فی الروضۃ للزندویسی ان السنۃ فی شعر الراس اما الفرق او |
امام زندویسی کی روضہ میں ہے کہ سنت یہ ہے کہ سر کے بال رکھے جائیں اوران میں مانگ |
[1] جمع الوسائل فی شرح الشمائل باب ماجاء فی شعر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۸۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع