30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور مردوں کو صحت وحیات بخشے والی ہستی پر اﷲ تعالٰی کی رحمت اور سلام ہو۔ت)نے اپنا دست اقدس کہ پناہ دوجہاں ودستگیر بیکساں ہے ان کے بدن پر لگایا فورا اچھے ہوگئے اور اسی وقت سے تو بہ کی کہ اب کبھی حدیث سن کر ایسی مخالفت نہ کروں گا،
علامہ شہاب الدین خفاجی مصری حنفی رحمہ اﷲ تعالٰی علیہ نسیم الریاض شرح شفائے قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:
|
قص الاظفار وتقلیمھا سنۃ ورد النھی عنہ فی یوم الاربعاء وانہ یورث البرص و حکی عن بعض العلماء انہ فعلہ فنھی عنہ فقال لم یثبت ھذا فلحقہ البرص من ساعتہ فرای النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی منامہ فشکی الیہ مااصابہ فقال لہ الم تسمع نھی عنہ فقال لم یصح عندی فقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یکفیك انہ سمع ثم مسح بیدہ الشریفۃ فذھب مابہ فتاب عن مخالفۃ ماسمع [1] اھ۔ |
ناخن کاٹنے سنت ہیں لیکن بدھ کے دن ایساکرنے سے حدیث میں ممانعت وارد ہوئی کیونکہ اس سے مرض برص(جسم پر سفید داغ پیداہوتا ہے۔بعض اہل علم کی حکایت ہے کہ انھوں نے بدھ کے روز ناخن کٹوائے انھیں اس سے منع کیا گیا لیکن انھوں نے فرمایا یہ حدیث ثابت نہیں،انھیں فورا مرض برص لاحق ہوگیا پھر انھیں خواب میں حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور انھوں نے آپ سے مرض برص کی شکایت کی آپ نے ان سے فرمایا کیا تم نے بدھ کے روز ناخن کٹوانے کی ممانعت نہیں سنی تھی؟ انھوں نے جوابًا عرض کیا کہ ہمارے نزدیك وہ حدیث پایہ صحت کو نہیں پہنچی تھی۔ زاس پر حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمھارے لئے اتنا ہی کافی ہونا چاہئے تھا کہ حدیث سن لی تھی۔ازاں بعد آپ نے اپنا دست اقدس ان کے جسم پر پھیرا تو فورا مرض زائل ہوگیا۔اس کے بعد عالم موصوف نے اسی وقت سماع کردہ حدیث کی مخالفت سے توبہ کی اھ(ت) |
یہ بعض علماء امام علامہ ابن الحاج مکی مالکی قدس سرہ العزیز تھے علامہ طحطاوی حاشیہ درمختار میں فرماتے ہیں:
|
ورد فی بعض الاثار النھی عن قص |
بدھ کے روز ناخن کترنے سے بعض آثار میں نہی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع