30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
" وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الۡاَنْعٰمِ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللہِ ؕ" [1] وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لعن اﷲ الواشمات والمتوشمات والمتنمصات و المتفلجات للحسن المغیرات خلق اﷲ متفق علیہ[2]۔ |
شیطان)لوگوں کو ضرور گمراہ کروں گا اور انھیں امیدوں اور آرزوؤں کے سبزباغ دکھاؤں گا اور(بذریعہ وسوسہ اندازی) حکم دوں گا کہ جانوروں کے کان کاٹ ڈالیں اور انھیں کہوں گا کہ اﷲ تعالٰی کی خلقت(یعنی بناوٹ)میں تبدیلی کریں۔ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اﷲ تعالٰی خال گودنے والی اور گدوانے والی عورتوں پرلعنت کرے،بال اکھاڑنے والی عورتوں پر خوبصورتی کے لئے دانتوں میں (مصنوعی)فاصلہ بنانے والیوں پر اور بناوٹ خداوندی میں ردو بدل کرنے والی عورتوں پر لعنت ہو۔اس کو بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے۔(ت) |
اسی طرح داڑھی غیر جہاد میں چڑھانا ناجائز وممنوع۔ایسے شخصوں کی نسبت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: لوگوں کو خبر دے دو کہ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان سے بیزارہیں رواہ الترمذی اورپر ظاہر کہ داڑھی کتروانا یامنڈانا چڑھانے سے سخت تر ہے کہ اس میں فقط تغییر صفت سنت ہے اور ان میں تغییر یا اعدام اصل معہذا اگر تو بہ نصیب ہو تو یہ سریع الزوال اور ان کا ازالہ نہ ہوگا مگر بعد ایك زمانہ کے جب چڑھانے کی نسبت ایسی وعید شدید وارد اور حضور اس کے مرتکب سے اپنی بیزاری ظاہر فرمائیں تو کترنے اور منڈانے سے کس قدر ناراض وبیزار ہوں گے اور العیاذ باﷲ اس حبیب مرتجٰی ورسول مجتبٰی صلی اﷲ تعالٰی وسلم کی ناراضی پر دنیا وآخرت میں جو ثمرات بد مرتب ہیں دل مومن ان سے خوب واقف ہے باقی عذر مذکور فی السوال وہ ہر گز قابل اعتبار نہیں بلکہ قائل کی سفاہت وضلالت پر دال ہے اس میں شك نہیں کہ اصلاح باطن آرائش ظاہر سے اہم ترمگر اس کے ساتھ افساد ظاہر وارتکاب محرمات و ممنوعات کی کس نے اجازت دی کیا تعمیل حکم شرع واتباع سنت شارع کہ داڑھی بڑھانے اور نیچی رکھنے میں پائی جاتی ہے آراستگی باطن میں کچھ خلل انداز ہے بلکہ وہ اپنے اس دعوے ہی میں جھوٹا ہے کہ باطن میرا آراستہ ہے اگر چہ داڑھی خلاف شرع ہو کہ اگر فی الواقع باطن اس کا زیور اصلاح سے مزین اور بحکم خدا ورسول منقاد ہوتا تو اتباع سنت چھوڑ کر شعار کفر وشرك وبدعت کی پیروی پسند نہ کرتا اور حکم شرع سن کر سر جھکاتا اپنے فعل شنیع پر مصر نہ ہوتا اور ایسے بیہودہ عذروں کو سپرنہ بناتا استغفراﷲ ایسے اعذار باردہ موجب تحلیل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع