30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
داڑھی،مونچھ،سروغیرہ کے بالوں،ختنہ اور ناخن وغیرہ سے متعلق مسائل
مسئلہ۲۰۲:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ داڑھی کترانا اور منڈانا اور چڑھانا جائز ہے یانہیں؟ درصورت ثانی مرتکب کا یہ عذر کہ اگر داڑھی مطابق شرع اور باطن خراب اور برا ہو اس سے بہتر ہے کہ داڑھی خلاف شریعت اور باطن آراستہ ہو صحیح اوردافع الزام ہے یانہیں؟ اورا گر اس کے ساتھ داڑھی چھوڑنے اورنیچی رکھنے کی تحقیر کرے اور جو ایسا کرتے ہوں ان سے باستہزا پیش آئے اور انھیں تشبیہات وتمثیلات شنیعہ سے یاد کرے تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا(بیان فرماؤ اور اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
داڑھی حد مقرر شرع سے کم نہ کرانا واجب اور حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور انبیاء علہیم الصلوٰۃ والسلام کی سنت دائمی اور اہل اسلام کے شعائر سے ہے اور اس کا خلاف ممنوع وحرام اور کفار کا شعار۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
عشر من الفطرۃ قص الشارب واعفاء اللحیۃ |
یعنی دس چیزیں سنت قدیم انبیاء عظام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی ہیں ان سے مونچھیں کم کرانا اور داڑھی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع