30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عرض کی:نہ فرمایا:تیر بیٹی سے؟ عرض کی،نہ۔فرمایا:تیری پھوپی سے؟ عرض کی:نہ۔فرمایا:تیری خالہ سے؟ عرض کی: نہ۔ فرمایا:تو جس سے زنا کرے گا وہ بھی تو کسی کی ماں بہن بیٹی پھوپھی خالہ ہوگی،جب اپنے لئے پسند نہیں کرتا اوروں کے لئے کیوں پسند کرتاہے۔پھر دست اقدس اس کے سینہ پر ملا اور دعا کی:الٰہی! اس کے دل سے زنا کی محبت نکال دے۔وہ صاحب فرماتے ہیں اس وقت سے زنا سے زیادہ کوئی چیز مجھے دشمن نہ تھی۔پھر صحابہ کرام سے ارشاد فرمایا کہ اس وقت اگر تم اسے قتل کردیتے تو جہنم میں جاتا میری تمھاری مثل ایسی ہے جیسے کسی کا ناقہ بھاگ گیا لوگ اسے پکڑنے کو اسے کے پیچھے دوڑتے ہیں وہ بھڑکتا اور زیادہ بھاگتا ہے اس کے مالك نے کہا تم رہنے دو تمھیں اس کی ترکیب نہیں آتی پھر گھاس کا ایك مٹھا ہاتھ میں لیا اور اسے دکھایا اور چمکارتا ہوا اس کے پاس گیا یہاں تك کہ بٹھا کر اس پر سوا ر ہوگیا۔اوکما قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم(یا جیسا کہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۹: از قادر گنج ضلع بیربھوم ملك بنگالہ مرسلہ سید ظہور الحسینی قادری رزاقی ۲۲ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
کسی شیئ متبرك کو تعظیما چومنے یا تعظیما اپنے پیروومرشد اور استاد والدین اور پیر زادہ اور سادات کرام اور علمائے عظام کے ہاتھ اور پاؤں چومنے اور ان لوگوں کو دیکھ کر تعظیما اٹھنے سے کفر وشرکت لازم آتاہے یا یہ امر جائز ومستحسن ہے اور احادیث شریفہ وفقہ سے ثابت ہے یانہیں یایہ کہ لوگوں نے ان کو بدعۃ مثل اور بدرسموں کے ایجاد کیاہے؟
الجواب:
اشیاء معظمہ کو تعظیما بوسہ دینا جائز ہے جبکہ کسی حرج شرعی پرمشتمل نہ ہو۔
|
وقد ثبت عن ابی ایوب الانصاری کما فی مسند الامام احمد وعن عبداﷲ بن عمر کما فی الشفاء للامام قاضی عیاض رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔ |
چنانچہ حضرت ابوایوب انصاری سے یہ ثابت ہے جیسا کہ مسند امام احمد میں مذکور ہے اور حضرت عبداﷲ بن عمر سے مروی ہے جیسا کہ"الشفاء"قاضی عیاض میں موجود ہے۔اﷲ تعالٰی ان سب سے راضی ہو۔(ت) |
اور معظمانِ دینی کے ہاتھ پاؤں چومنا بھی احادیث کثیرہ سے ثابت ہے یونہی انھیں دیکھ کر قیام مگر ہاتھ باندھے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع