30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رکھنا خبیث سائلوں کی تفسیر اور ان کے حال کی تقبیح ہے کہ یہ حمیر قابل جواب نہیں،اے میرے مسلمان بندو! تم خیال کرو کہ یہ اگر ایسا چاہتے تو تم سے فرماتے کہ تم اپنے غلامان فرمانبردار،پھر کیا ایسا ہوسکتا تھا کہ تمھیں اسلام کے بعدکفر کاحکم دیتے،معاذاللہ،اور یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ بوجہ خطاب یہ گمان کہ سائل مسلمان تھے جیسا کہ اس معتزلی کی کشاف میں گزرا اور بعض بعد والوں نے اتباع کیا باطل ہے۔اور اس کی تفسیر صحیح کے خلاف جو سلطان المفسرین صحابی وابن عم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی،دوم مرسل موقطوع اگر ثابت ہوجائے تو اس میں رجلا ہے یعنی ایك شخص نے عرض کی، ضرر یہ کوئی اعرابی بادیہ نشیں کفر کا حکم دیں گے اور ایسے بعض اشخاص سے ایسے سوال کا اصدور مستبعد نہیں بلکہ ہو نا ہی چاہئے تھا۔رب عزوجل فرماتاہے: "لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ ﴿ؕ۱۹﴾" [1](ضرور تم زینہ بہ زینہ(بتدریج)چڑھتے جاؤ گے۔ت)سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگلوں میں کوئی ایسا ہو گزرا ہو جس نے علانیہ اپنی ماں کے ساتھ زنا کیا ہو تو ضرور تم میں بھی کوئی ایسا ہوگا "l لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ ﴿ؕ۱۹﴾"[2]سیدنا موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام سے ان کے متعدد اصحاب نے سوال کیا " اجْعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰـہًا کَمَا لَہُمْ اٰلِـہَۃٌ ؕ"[3](اے موسٰی! ہمیں بھی ایك خدا بنادے جیسے ان کے بہت سے خداہیں فرمایا بَلْ اَنۡتُمْ قَوْمٌ تَجْہَلُوۡنَ ﴿۵۵﴾ [4]بلکہ تم نرے جاہل ہو۔تویہاں بھی اگر کسی بادیہ نشین نومسلم جاہل ناواقف نے اپنی نادانی سے ایسی درخواست کی کیا بعید ہے اور اسی قرب عہد کے سبب ہدایت فرمادی گئی تکفیر نہ ہوئی جیسے موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے تجھلون(تم نرے نادان لوگ ہو۔ت)فرمایا نہ کہ تکفرون(تم کفر کررہے ہو۔ت)جس طرح ایك جوان حاضر خدمت اقدس ہوا اورآکر بے دھڑك عرض کی یا رسول اللہ! میرے لئے زنا حلال کردیجئے۔نبی سے براہ راست یہ درخواست کس حد کس حد تك پہنچتی ہے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے اس کو قتل کرنا چاہا حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا اور اسے قریب بلایا یہاں تك کہ اس کے زانو زانوئے اقدس سے مل گئے پھر فرمایا:کیا تو پسند کرتا ہے کہ کوئی شخص تیری ماں سے زنا کرے؟ عرض کی:نہ۔فرمایا:تیری بہن سے؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع