30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا جائے۔ت)میں سلام مراد ہے نہ کہ ہر تحیت تحیتیں کثیر ہیں۔سلام،مصافحہ،معانقہ،قلیل انحناء دست بوسی،قدمبوسی، قیام،انحنا تاحد رکوع،سجدہ تحیت سلام سے سجود تك سب تحیت ہی ہیں اور اخیرین کے سواسب جائز بلکہ انحناء کے سوا سب حدیث وسنت سے ثابت ہے۔کیا کوئی عاقل کہہ سکتا ہے کہ اگر بیٹا چومے تو باپ پر بھی فرض ہے کہ اس کے قدم چومے کیونکہ اس نے تحیت کا معاوضہ فرض ہے یہ محض باطل ہے۔ولہذا کتابوں میں وجوب جواب صرف سلام کے لئے فرمایا ہے۔کریمہ "اَیَاۡمُرُکُمۡ بِالْکُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنۡتُمۡ مُّسْلِمُوۡنَ﴿۸۰﴾٪"[1](کیا وہ تمھیں کفر کرنے کاحکم دے گا جبکہ تم مسلمان ہوچکے ہو۔ت)خود شاہد عدل ہے کہ وہ دربارہ سجدہ عبادت ہے سجدہ تحیت کو کون کفر کہہ سکتا ہے کفر ہوتا تو اگلی شریعتوں میں کیونکر جائزہوسکتا کیا کوئی شریعت جواز کفر بھی لاسکتی ہے کفر ہوتا تو رب عزوجل ملائکہ کو اس کا حکم کیونکہ فرماتا کیا رب عزوجل کبھی کفر کا بھی حکم فرماتاہے تو سجدہ تحیت قطعا کفر نہیں اور یہ آیت فرمارہی کہ اس چیز کاذکر ہے جو قطعا کفر ہے تو اگر دربارہ سجود نازل ہے تو یقینا دربارہ سجدہ عبادت ہی نازل ہے۔کبیرہ وابوالسعود وکشاف ومدارك جن کا حوالہ دیا گیا ان میں کہیں اس کی تصریح نہیں کہہ یہ سجدہ تحیت کے بارے میں اتری۔یہاں تفسیر ماثور دو۲ ہیں:
ایك امام ائمہ المفسرین ترجمان القرآن سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے جسے ابن ابی حاتم وابن جریر وابن المنذر اور بہیقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا کہ ابورافع قرظی یہودی اور سمی رئیس نصرانی نجراتی نے خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں عرض کیا حضور یہ چاہتے ہیں کہ ہم حضور کی عبادت کریں جیسے نصارٰی نے عیسی کو پوجا،فرمایا معاذاﷲ غیر خدا کی عبادت نہیں ہوسکتی،نہ مجھے اس کا حکم ہوا نہ میں اس لئے بھیجا گیا [2] اوکما قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم(یا جیسا کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا۔ت)
دوسری۲ تفسیر کہ حسن بصری سے مرسلا ہے وقد قال المحدثون ان مراسیل الحسن عندھم شبہ الریح(جبکہ محدثین حضرات نے ارشاد فرمایا حضرت حسن کی مرسل حدیثیں ان کے نزدیك ہوا کے مشابہ ہیں یعنی درجہ اعتبار سے ساقط ہیں۔ت) ایك شخص نے عرض کی ہم حضور کو ایسے ہی سلام کرتے ہیں جیسے آپس میں ایك دوسرے کو کیا ہم حضور کو سجدہ نہ کریں۔اس پر انکار فرمایا اور یہ آیت [3]اتری۔
تفسیر اول کہ ہر طرح اصح واقوی ہے اس پر تو مطلع صاف ہے یہودی ونصرانی نے عبادت ہی کو پوچھا تھا جس پر یہ جواب ارشاد ہوا اور اسی تفسیر پر رب عزوجل کا روئے سخن اپنے مسلمان بندوں کی طرف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع