30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صوفیہ کرام کی نسبت یہ کہنا کہ ان کا قول وفعل معاذاﷲ کچھ وقعت نہیں رکھتا بہت سخت بات ہے۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:
|
" وَّاتَّبِعْ سَبِیۡلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ۚ "[1] |
جومیری جھکے ان کی راہ کی پیروی کر۔ |
صوفیہ کرام سے زیادہ اﷲ کی طرف جھکنے والا کون ہوگا،فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
|
انما یتمسك بافعال اھل الدین [2]۔ |
دینداروں کے افعال سے سندلائی جاتی ہے۔ |
صوفیہ کرام سے بڑھ کر اور کون دیندار ہے۔حضرت شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی قدس سرہ،کی عارف سے سندلائی جائزنہ ہونا چاہئے کہ وہ بھی صوفی تھے یونہی حضرت سیدالطائفہ جنید رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ترك سے جس کا قول وفعل حجت نہیں اس کا ترك کیا حجت ہوسکتا ہے کہ ترك بھی فعل ہی ٹھہر کر قابل تمسك ہوتاہے نہ کہ بمعنٰی عدم کہ نہ متعدور نہ اس میں اتباع منقول کما نص علیہ فی غمزالعیون والبصائر(جیسا کہ غمزالعیون والبصائر میں اس پر نص ہے۔ت)اور شاہ ولی اﷲ صاحب کب اپنے آپ کو صوفیہ سے خارج کرسکتے ہیں تو ان کا قول وفعل سب سے بڑھ کر بے وقعت ہوناچاہئے محل ادب میں ایسا ارسال لسان خصوصا پیش عوام غنا کے مفاسد سے سخت تر مفسدہ ہے اس کا جواز تو مختلف فیہ ہے اس کا عدم جواز متفق علیہ ہے بالجملہ فریق ثانی کے اکثر احکام صحیح ہیں اس کی بڑی فاحش غلطی سجدہ تحیت کی تحلیل ہے صحیح یہی ہے کہ سجدہ تحیت حرام ہے یہی مسئلہ ان سب میں بڑا ہے عندالتحقیق یہ بھی اس حدتك نہیں کہ قائل خلاف پر اندیشہ کفر ہو۔
|
کیف وقد بہ سلطان الاولیاء سیدنا نظام الحق و الدین رضی اﷲ تعالٰی عنہ واستدل بانہ کان واجبا للامر ثم نسخ الوجوب فبقی الندب۔ |
یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ سلطان الاولیاء سیدنا نظام الحق والدین رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اس کے بارے میں فرمایا اور اس بات پر استدلال کیاکہ سجدہ صیغہ امر کی وجہ سے پہلے واجب تھا پھر وجوب منسوخ ہوگیا تو استحباب باقی رہ گیا۔(ت) |
اسی تحریم میں ہماری سند تصریح فقہائے کرام ہے اور اسی قدر ہمیں بس ہے ہم مقلد ہیں دلیل مجتہد کے پاس ہے آیات سے اس پر استدلال کسی طرح تام نہیں،کریمہ " وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ "[3]۔(جب تمھیں سلام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع