30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مع اھل فلما فقد الاخوان ترك [1]۔ |
تھاّ(مراد یہ کہ وہ اہل تھے)پھر ان سے کہا گیا اپنی ذات کے لئے سنا کریں۔فرمایا:کس سے سنوں،کیونکہ وہ سماع صرف اہل اسے اور اہل کی معیت میں ہوکر سنا کرتے تھے،پھر جب ایسے احباب نایاب اور ناپید ہوگئے تو سماع چھوڑدیا۔(ت) |
حضرت شیخ الشیوخ قدس سرہ،نے عوارف شریف میں پہلے ایك باب قبول وپسند سماع میں تحریر فرمایا اور اس میں بہت احادیث وارشادات ذکر فرمائے۔اور فرماما:
|
وقد ذکر الشیخ ابو طالب المکی رحمہ اﷲ تعالٰی ما یدل علی تجویزہ ونقل عن کثیر من السلف صحابی وتابعی وغیرھم وقول الشیخ ابی طالب المکی یعتبر لو فورعلمہ وکمال حالہ وعلمہ باحوال السلف ومکان ورعہ وتقواہ وتحریر الاصواب والاول و قال فی السماع حلال وحرام وشبہ فمن سمعہ بنفس مشاھدۃ شھوۃ وھوی فھو حرام ومن سمعہ بمعقولہ علی صفۃ مباح من جاریۃ اوزوجۃ کان شبھۃ لدخول اللھو فیہ و من سمعہ بقلب یشاھد معانی تدل علی الدلیل ویشدہ طرقات الجلیل فھو مباح وھذا قول الشیخ ابی الطالب المکی وھو الصحیح [2]۔ |
بیشك شیخ ابوطالب مکی رحمہ اﷲ تعالٰی علیہ نے کچھ ایسے دلائل وشواہد بیان فرمائے جو سماع کے جواز پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے اسلاف،صحابہ کرام اور تابعین عظام اور ان کے علاوہ دوسرے اکابرین سے نقل فرمایا،اور شیخ ابوطالب مکی علیہ الرحمۃ کاقول معتبر اور مستند ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ کثیر علم سے معمور ہیں،حال میں صاحب کمالہیں۔اور اسلاف کے حلات کو بخوبی جانتے ہیں۔ اور تقوٰی ودورع میں ان کا ایك خاص مقام ہے۔اور زیادہ صواب اور زیادہ بہترامورمیں گہری سوچ اور فکر کامل رکھتے ہیں۔چنانچہ ارشاد فرمایا:سماع میں حلال،حرام اور شبہ کی اقسام ہیں،لہذا جس نے نفس مشاہدہ شہوت اور خواہش کے پیش نظر سماع سنا تویہ حرام ہے۔اور جس نے معقولیت کے پیش نظر مباح طریقے سے لونڈی یا اہلیہ سے استفادہ سماع کیا تو اس صورت میں شبہہ پیدا ہوگیا کیونکہ اس میں کھیل داخل ہوگیا۔اور جس شخص نے ایسے نفیس دل کے ساتھ سماع سنا جو ایسے معانی کا مشاہدہ کررہا تھا جو دلیل کی راہنمائی کرتے ہیں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع