30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فخروذاب ومنھم برقت لہ بوارق اللطف فتحرك وطاب ھذا ماعن لی فی الجواب [1]واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب۔ |
اﷲ تعالٰی کے سواکچھ نہیں سنتے،اور وہ صرف اس کااشتیاق رکھتے ہیں اگر اس کا ذکر کریں تو یہ آہ وزاری کرتے ہیں اوراگر اسے پائیں تو چیخیں چلائیں جبکہ ان پر وجد طاری ہوجائے پھر ان میں کوئی وہ ہے کہ جس کو مصائب ہیبت دستك دیں تو وہ گر کر پگھل جائے،اور کوئی وہ ہے کہ جس کے لیے لطف وکرم کی بجلیاں چمکیں تو وہ متحرك ہوکر خوش وخرم ہوجائے اس جواب میں مجھ پر یہی کچھ ظاہر ہوا،اور راہ صواب کو سب سے زیادہ اﷲ تعالٰی ہی جانتاہے۔ (ت) |
غنا اگر منکرات شرعیہ پر مشتمل ہو مثلا مزامیر کو حرام ہیں یا عورت کا گانا کہ باعث ہیجان فتنہ ہے یونہی محل فتنہ ارمرد کا گانا،یا جوکچھ گایا جائے اس کا امور مخالف شرع پر مشتمل ہونا یا ایسے امور پر خیالات کا سدہ وشہوات فاسدہ کے باعث ہوں خصوصا مجمع عوام میں بلا شبہ ممنوع ہے اور تمام مفاسد سے خالی ہو تو اس کے جواز میں کوئی شبہ نہیں کما حققناہ فی اجل التحبیر(جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ اجل التحبیر میں اس کی تحقیق کردی۔ت)
غنا کا غالب اطلاق انھیں مہیجات شہوات باطلہ پر آتاہے کما نبہ علیہ فی ارشاد الساری(جیسا کہ ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں اس پر آگاہ کیا گیا ہے۔ت)احادیث واقوال مذمت اسی پر محمول ہیں ورنہ اذکار حسنہ اصوات حسنہ والحانات حسنہ سننے کی کوئی ممناعت نہیں بلکہ اس میں احادیث وارد،اور اب وہ لہو نہیں نہ وہ شیطانی آواز ہے تو آیہ کریمہ
" وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْہُمْ بِصَوْتِکَ "[2](اس میں سے جس پر تو قابو پائے(اور تیرا بس چلے)انھیں اپنی آواز سے پھسلا دے۔ ت)اس پر صادق نہیں حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے جو آخر عمر شریف سماع سننا ترك فرمایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اب کوئی گانے ولااہل نہ ملتا تھا۔عوارف شریف میں ہے:
|
قیل ان الجنید ترك السماع فقیل لہ کنت تستمع فقال مع من قیل لہ تسمع لنفسك فقال ممن لانھم کانوا لا یسمعون الامن اھل |
کہا گیا کہ حضرت جنید بغدادی(رحمۃ اﷲ علیہ)نے سماع چھوڑدیا تھا ان سے عرض کی گئی آپ سماع پر کاربند تھے(پھر کیوں ترك کردیا؟)آپ نے ارشاد فرمایا:کن لوگوں کے ساتھ ہوکر سنتا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع