30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر اس کی دو۲ صورتیں ہیں اگر تثنی وتکسر کے ساتھ ہے تو بلاشبہہ ناجائز ہے۔تکسر لچکاتثنی توڑا یہ رقص فواحش میں ہوتے ہیں اور ان سے تشبہ حرام۔اور اگر ان سے خالی ہے تو اہل بیعت کو مجلس عالم ومحضر عوام میں اس سے احتراز ہی چاہئے،کہ ان کی نگاہوں میں ہلکاہونے کا باعث ہے۔اور اگر جلسہ خاص صالحین و سالکین کا ہو تو داخل تواجد ہے۔تواجد یعنی اہل وجد کی صورت بننا،اگر معاذاﷲ بطور ریا ہے تو اس کی حرمت میں شبہ نہیں کہ ریا کے لئے تو نماز بھی حرام ہے۔اور اگرنیت صالحہ ہے تو ہر گز کوئی وجہ ممانعت نہیں،یہاں نیت صالحہ دو ہوسکتی ہیں ایك عام یعنی تشبہ بصلحائے کرام ؎
ان لم تکونوا مثلھم فتشبھوا ان التشبہ بالکرام فلاح
(اگر تم ان کی مثل نہیں ہو تو پھر ان سے مشابہت اختیار کرو کیونکہ شرفاء اور معزز لوگوں سے تشبہ کا میابی کا ذریعہ ہے۔ت)
حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من تشبہ بقوم فھو منہم [1]۔ |
جو کسی قوم سے تشبہ کرے گا وہ انھیں میں سے ہے۔ |
دوسری حدیث میں ہے:
|
ان لم تبکوا فتباکوا [2]۔ |
رونا نہ آئے تو رونے کی صورت بناؤ۔ |
دوسری نیت طالبان راہ کے لئے وجد کی صورت بنائے کہ حقیقت حاصل ہوجائے نیت صادقہ کے ساتھ بتکلف بننا بھی رفتہ رفتہ حصول حقیقت کی طرف منجر ہوجاتاہے۔امام حجۃ الاسلام غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:
|
التواجد المتکلف فمنہ مذموم یقصد بہ الریاء ومنہ محمود وھو التوسل الی استدعاء الاحوال الشریفۃ و اکتسابھا واجتلابھا بالحیلۃ فان للکسب مدخلا فی جلب الاحوال الشریفۃ ولذٰلك |
تکلف سے"وجد"طلب طاری کرنا اسکی ایك قسم ہے تو مذموم ہے کہ جس میں دکھاوے(ریا)کا ارادہ کیا جائے اور اس کی ایك قسم محمود(اچھی)ہے کہ جس کو شریفانہ حالات کے چاہنے ان کے اکتساب اور حصول کا حیلہ سازی سے ذریعہ بنایا جائے کیونکہ انسانی کسب کو شریفانہ حالات کے حصول میں ایك |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع