30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بعداباحت سابقہ سے استدلال نہیں ہوسکتا۔جیسے شراب وغیرہ،اصل اشیاء میں ضرور اباحت ہے مگر بعد ممنوع شرع اباحت نہیں رہ سکتی۔
|
قال اﷲ تعالٰی"وَمَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ۚ وَمَا نَہٰىکُمْ عَنْہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ"[1]۔ |
اﷲ تعالٰی جو کچھ تمھیں رسول گرامی عطا فرمائیں اسے لے لو اور جس سے تمھیں رسول منع فرمائیں اس سے باز رہو۔(ت) |
ان صحابی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا پیشانی اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر سجدہ کرنا حضور کو سجدہ تحیت نہ تھا بلکہ اﷲ عزوجل کو سجدہ عبادت اور پیشانی اقدس اس وقت مسجد تھی یعنی موضع سجود،انھوں نے اسی طرح خواب دیکھا تھا اس کی تصدیق کے لئے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اجازت عطا فرمائی کہ پیشانی انور پر سر رکھ کر اﷲ عزوجل کو سجدہ کرلیں۔فریق ثانے نے سجدہ تحیت کو جائز کہا ہے جب پیشانی زمین کو لگائیں،ہیئت نماز پر نہ ہو،پیشانی زمین پر نہ لگے،باطہارت نہ ہو یہ صریح تناقص ہے جب پیشانی زمین کو نہ لگی سجدہ ہی نہ ہوگا اور باطھارت نی ہونے کی قید عجیب ہے معظمان دینی کو وہ کون سی تعظیم ہے جس میں محدث ہونا شرط ہے شاید مقصود یہ ہو کہ سجدہ نماز کی طرح طہارت اس میں ضروری نجانیں،طرفہ یہ کہ قدمبوسی میں بھی شرط لگائی حالانکہ معظمان دینی کی قدمبوسی بلا شبہ بحال طہارت بھی جائز ہے بلکہ یہی مستحب ہے کہ اس میں تعظیم زائد ہے،فتح القدیر میں فرمایا:
|
کل ماکان ادخل فی الادب والاجلال کان حسنا [2]۔ |
جس چیز کا ادب اور تعظیم میں زیادہ دخل ہو وہ اچھی ہے۔(ت) |
قدمبوسی سنت سے ثابت اور اس میں احادیث کثیرہ وارد،کما بینا فی فتاوٰنا(جیسا کہ ہم نے اس کو اپنے فتاوٰی میں بیان کیا ہے۔ت)انحناء یعنی جھکنا دو قسم ہے۔مقصود ووسیلہ،اگر خود نفس انحناء سے تعظیم مقصود نہیں بلکہ دوسرے فعل سے جس کا یہ ذریعہ ہے تو اس صورت میں اس کا حکم اس فعل کا حکم ہوگا قدمبوسی جائز بلکہ مسنون ہے تو اس کے لئے جھکنا بھی مباح بلکہ سنت ہے اور غیر خدا کو سجدہ تحیت حرام ہے تو اس کے لئے جھکنا بھی حرام ہے۔دوسری قسم کہ نفس انحناء سے تعظیم مقصود ہو یہ اگر رکوع تك ہے ناجائز وگناہ ہے اور اس سے کم ہے تو حرج نہیں۔امام عبدالعغنی نابلسی قدس سرہٗ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع