30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لھو الحدیث وان کان ظاھرہ عاما فی کل مایلھی عما یعنی الا انہ ذکر فی الفتاوی العمادیۃ وکذا فی العوارف وغیرہ ان ابن عباس وابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہما کانا یحلفان اناقد سمعنا عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان المراد بہ التغنی و یوافقہ الروایۃ الثانیۃ من النزول فیکون دلیلا علی حرمتہ [1] اھ وقال الطبری واجمع علماء الامصار علی کراھۃ الغناء والمنع منہ وانما فارق الجماعۃ۔ |
کھیل کی باتوں میں شغل رکھتے ہیں اور انھیں تو ہین آمیز عذاب سے ڈرایا،اور کھیل کی باتیں اگر چہ بظاہر عام ہیں جوہر اس چیز کو شامل ہیں جو انسان کو فائدہ بخش کام سے غافل کردے لیکن فتاوٰی عمادیہ اور اسی طرح"عوارف"وغیرہ میں مذکور ہے کہ حضرت عبداﷲ بن عباس اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہما دونوں قسم کھا کر کہتے تھے کہ ہم نے حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اس سے گانابجانا مراد ہے اور شان نزول کی دوسری روایت اس کی موافت کرتی ہے لہذا یہ حرمت غنا پر دلیل ہے اھ۔اور امام طبری،نے فرمایا:تمام شہروں کے علماء کرام کا گانے کی کراہت (ناپسندیدگی)اور ممانعت پر اجماع اور اتفاق ہے۔(ت) |
ابراہیم بن سعد وعبداﷲ عنبری جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس عمرو بن قرۃ آیا اور اس نے غناء فاحشہ کی رخصت چاہی حضرت نے جازت نہ دی علاوہ بریں تمام فقہائے اور صوفیائے کرام نے غناو رقص وغیرہ سے منع فرمایا ہے۔مضمرات میں ہے:
|
من اباح الغناء یکون فاسقا [2]۔ |
جو گانے بجانے کو مباح قرار دے تو وہ فاسق ہے۔(ت) |
اور شیخ شہاب الدین سہروری عوارف میں فرماتے ہیں:
|
سماع الغناء من الذنوب [3] الخ۔ |
گانا سننا گناہ ہے۔الخ(ت) |
اور چونکہ غنا ورقص وغیرہ خصوصًا اس زمانہ فتنہ وفساد میں جیسا کہ صوفی لوگ مجلس قائم کرکے کرتے ہیں عوام وجہال
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع