30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علیہم الصلٰوۃ والسلام نے سجدہ کیا۔اسے کون منسوخ مانتا ہے کیا واقع غیر واقع ہوسکتا ہے اس خبر سے یہ حکم مستنبط کرتے ہوئے کہ سجدہ تحیت غیر خدا کو جائز ہے یہ حکم اگر تھا تو منسوخ ہوا،مسلم وفواتح میں ہے:
|
ھھنا امران الاخبار بتعلق الامر بالخاطبین والامر المتعلق بھم الموجب ولم ینتسخ الخبرلان وقوع الامرواقع ولم یرتفع وانما نسخ الامر المخبر عنہ وھو لیس خبرا فماھو خبر لم ینتسخ وما انتسخ لیس بخبر [1]۔ |
یہاں دو امر ہیں:ایك یکہ کہ خبر"امر بالمخاطبین"سے متعلق ہے۔دوسری یہ کہ جوامر ان سے متعلق ہے وہ موجب ہے۔لہذا خبر میں نسخ نہیں اس لئے کہ وقوع امر واقع ہے کہ جس میں ارتفاع ممکن نہ ہو،البتہ امر مخبر عنہ میں نسخ واقع ہوا ہے۔اور وہ خبر نہیں،لہذا جو خبر ہے وہ منسوخ نہیں اور جو منسوخ ہے وہ خبر نہیں۔(ت) |
(۱۶۶)بکر نے اپنے افتراءات علی اﷲ تعالٰی میں زعم کیا تھا ص ۶"کہ خدا نے قرآن میں فرمایا تھا "فَاَیۡنَمَا تُوَلُّوۡا فَثَمَّ وَجْہُ اللہِؕ"[2] تم جدھر متوجہ ہو خدا اسی طرف ہے یعنی جس طرف سجدہ کرو خدا ہی کو ہوگا،بعد میں سمت کعبہ مقرر ہوگئی یہ آیت بھی جملہ خبر یہ تھی کس طرح منسوخ ہوگئی۔
(۱۶۷ تا ۱۷۲)اب باپ بیٹی۔بہن بھائی کے نکاح اور دیگر امور مذکورہ نمبر ۱۵۴ کی حرمت کی کوئی راہ نہ رہی کہ وہ تمام آیات اخبار ہی تھیں اور"اخبار منسوخ نہیں ہوتے"
(۱۷۳)بلکہ یہ سب زائد حاجت ہے ہم ثابت کرچکے کہ اس سجدہ تحیت کا جواز نص کا حکم نہیں،ہوگا تو قیاس سے قیاس مجتہدین پر ختم ہوگیا۔
(۱۷۴)قیاس بھی سہی تو سجدہ غایت تعظیم ہے۔خود بکر نے ص ۵ پر کہا"تعطیم کا اظہار ا س سے زیادہ انسان اور کسی صورت سے نہیں کرسکتا"ص ۱۱ آخری تعظیم ہے جو حقیقت میں عبادت کی آخری شان ہے"اور غایت تعظیم کے لئے نہایت عظمت درکار،کم درجہ معظم کے لئے انتہا درجہ کی تعظیم ظلم صریح ہے اور اعلی معظمین کے حق میں دست اندازی ع
گرفرق مراتب نکنی زندیقی
(اگر تم مراتب کافرق ملحوظ نہ رکھوگے تو نری بے دینی ہوگی۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع