30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نسخہ ففائد نزول الاٰیۃ تقریر الحکم الثابت [1]۔ |
اور اس کا رسول گرامی بغیر انکار کئے،اسے بیان فرمائیں اور اس کا نسخ ظاہر اور ثابت نہو۔پھر نزول آیت کا فائدہ حکم ثابت کو برقرار رکھتا ہے۔(ت) |
اور ص ۱۲ پر اس کا ترجمہ کیا نفیس ہوتاہے:"تو نزول آیت کا فائدہ حکم ثبوت کو پہنچے گا"زہے بیعلمی۔
(۱۵۸)ص ۱۲ پر قاضی خان کی عبارت الاصل فی الاشیاء الاباحۃ [2](اشیاء میں اصل ان کا مباح ہونا ہے۔ت)کا یہ ترجمہ کیا تمام اشیاء میں اصلیت مباح ہوتاہے۔زہے منشی گری۔
(۱۵۹تا ۱۶۱)خیر یہ تو معمولی کمالات بکری ہیں،کہنایہ ہے کہ ہدایہ و ردالمحتار وقاضی خان کی عبارتیں تو یہ نقل کیں اور ص ۱۲ پر نتیجہ یہ دیا"یہ کتابیں صاف صاف کہتی ہیں کہ سابقہ شریعت کی بات کے خلاف کوئی نص قطعی موجود نہ ہو تو اس کے مباح ہونے میں کسی دلیل کی حاجت نہیں"ہدایہ و قاضی خاں کی عبارتوں میں تو شریعت سابقہ کا نام تك نہ تھا،ردالمحتار میں ذکر تھا نص قطعی کا ذکر تك نہ تھا،یہ تینوں کتابوں پر تین افتراء ہوئے،
(۱۶۲)رابعا اگر قطعیت درکار ہو تو نمبر۶۱ میں تفسیر عزیزی سے گزراکہ سجدہ تحیت حرام ہونے میں متواتر حدیثیں ہیں۔
(۱۶۳)اگر وایۃ متواتر نہ بھی ہو قبولا متواتر ہے کہ تمام ائمہ اسے مانے ہوئے ہیں تو اس سے قطعی کانسخ روا ہے جیسے حدیث لاوصیۃ لوارث [3](کسی وارث کے لئے وصیت نہیں۔ت)جس سے وصیت والدین واقربین کو منصوص قرآن بھی منسوخ کہی گئی،امام اجل بخاری کشف الاسرار میں فرماتے ہیں:
|
ھذا الحدیث فی قوۃ المتواتر اذ المتواتر نوعان متواتر من حیث الروایۃ ومتواتر من حیث ظھور العمل بہ من غیرنکیر |
یہ حدیث متواتر کے زمرہ میں ہے۔اس لئے کہ متواتر کی دو۲ قسمیں ہیں:(۱)متواتر بلحاظ روایت(۲)اس حقیقت سے متواتر کہ بغیر انکار اس پر ظہور عمل ہے(خلاصہ)(i)متواتر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع