30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھینکنا "فَبَرَّاَہُ اللہُ مِمَّا قَالُوۡا ؕ"[1](پھر اﷲ تعالٰی نے بزرگوں کے غلط کہنے سے اسے بری کردیا۔ت)سے برملا برہنہ نکلنا "وَّکَشَفَتْ عَنۡ سَاقَیۡہَا ؕ"[2](پھر اس عورت(ملکہ سبا)نے اپنی دونو پنڈلیوں سے کپڑا اٹھایا۔ت)سے حرہ اجنبیہ کی ساقین دیکھنا مجمع کو دکھانا "یَعْمَلُوۡنَ لَہٗ مَا یَشَآءُ مِنۡ مَّحٰرِیۡبَ وَ تَمٰثِیۡلَ "[3](وہ(سلیمان علیہ الصلٰوۃ والسلام)جو کچھ چاہتے جنات ان کے لیے بنادیتے یعنی پختہ عمارتیں اور مجسمے۔ت)سے زید وعمرو کے بت بنانا "فَطَفِقَ مَسْحًۢابِالسُّوۡقِ وَالْاَعْنَاقِ ﴿۳۳﴾"[4](پھر وہ(سلیمان علیہ السلام)ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر اپنا ہاتھ پھیرنے لگے۔ت)سے اپنے نسیان کے بدلے گھوڑے کا قتل الی غیر ذٰلک(اس کے علاوہ اور بہت سی آیت ہیں۔ت)۔
(۱۵۵)بکر نے حسب عادت یہاں بھی تین کتابوں پر افتراء کئے ہدایہ میں امام محمد کا ایك فرق اصطلاح بیان کیا کہ:
|
المروی عن محمد نصا ان کل مکروہ حرام الا انہ لمالم یجد فیہ نصا قاطعا لم یطلق علیہ لفظ الحرام [5]۔ |
یعنی امام محمد کی تصریح ہے کہ ہر مکروہ حرام ہے مگر جہاں وہ نص قطعی نہیں پاتے وہاں لفظ حرام نہیں کہتے۔ |
اس کا ترجمہ یہ بیان کیا ص ۱۱"جس میں کوئی نص قطعی نہ پائی جائے اس پر حرام کا اطلاق نہیں ہوسکتا"وہ صاف صاف تو فرمارہے ہیں کہ ہر مکروہ حرام ہے اور پھر حرام کا اطلاق نہیں ہوسکتا،یہ ھدایہ پر افتراء ہے۔
(۱۵۶)ابتدائے عبادت سے وہ الفاظ کہ امام کی تصریح ہے کہ ہر مکروہ حرام ہے صاف کترلئے کہ چال نہ کھلے،یہ خیانت ہے۔
(۱۵۷)ص ۱۱ ردالمحتار کی عبارت نقل کی:
|
شرع من قبلنا حجۃ لنا اذاقصہ اﷲ تعالٰی او رسولہ من غیر انکار ولم یظھر |
جو حضرات ہم سے پہلے ہوئےان کی شریعت(اور دین) ہمارے لئے دلیل ہے جبکہ اﷲ تعالٰی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع