30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱۵۲)وجہ چہارم:سب جانے دو وہ انھیں کو سجدہ معروفہ سہی اور وہ ان کی شریعتوں کا حکم ہی سہی تو شرائع سابقہ کا ہم پر حجت ہونا ہی قطعی نہیں ائمہ اہلسنت کا مختلف فیہ ظنی مسئلہ ہے بعض کے نزدیك وہ اصلا حجت نہیں،نہ ان پر عمل جائز جب تك ہماری شرع سے کوئی دلیل قائم نہ ہو اور یہی مذہب اکثر متکلمین اور ایك گروہ حنفِیہ وشافعیہ کا ہے۔اور اسی پرامام اہلسنت قاضی ابوبکر باقلانی اور امام فخرالدین رازی ویوسف آمدی ہیں۔بعض کے نزدیك حجت ہیں جب تك نسخ پر دلیل قائم نہ ہو،اکثر حنفیہ اسی پر ہیں اصول امام فخر الاسلام میں ہے:
|
قال بعض العلماء یلزمنا شرائع من قبلنا حتی یقوم الدلیل علی النسخ و قال بعضھم لایلزمنا حتی یقوم الدلیل[1]۔ |
بعض علماء کرام نے فرمایا شرائع(اور ادیان)جو ہم سے پہلے ہلوئے ان کے مطابق عمل کرنا ہمارے لئے لازم(اور ضروری) ہے جب تك کوئی دلیل ان کے نسخ پر قائم نہ ہو، بعض نے فرمایا وہ لہم پر لازم نہ ہوں یہاں تك کوئی دلیل (جواز عمل) قائم ہو(ت) |
شرح امام عبدالعزیز بخاری میں ہے:
|
ذھب اکثر المتکلمین وطائفۃ من اصحابنا واصحاب الشافعی الی انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لم یکن متعبدا بشرائع من قبلنا وان شریعۃ کل نبی تنتہی بوفاتہ علی ماذکرصاحب المیزان اویبعث نبی آخر علی ماذکر شمس الائمۃ ویتجد دللثانی شریعۃ اخری فعلی ھذالایجوز العمل بھا الابما قام الدلیل علی بقائہ وقال بعضھم یلزمنا فیما لم یثبت انتساخہ [2]۔ |
اکثر اہل کلام اور ہمارے اصحاب میں سے ایك گروہ اور اصحاب امام شافعی اس نظریہ کی طرف گئے ہیں کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم شرائع سابقہ پر عامل نہ تھے کیونکہ ہر نبی کی شریعت اس کی وفات پر منتہی ہوجاتی ہے جیسا کہ صاحب المیزان نے ذکر فرمایا،(یہاں تك کہ)کوئی دوسرا نبی مبعوث ہوتا ہے پھر اس دوسرے نبی کے لئے تجدید شریعت ہوتی ہے جیسا کہ شمس الائمہ نے بیان فرمایا،لہذا شرائع سابقہ پر عمل کرنا جائز نہیں مگر جبکہ اس کے بقاپر کوئی دلیل قائم نہ ہو،اور بعض نے فرمایا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع