30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عطاء ان المراد بھذہ الاٰیۃ انھم خروالہ ای لا جل وجد انہ سجد ﷲ تعالٰی و حاصل الکلام ان ذٰلك السجود کان سجود الشکر فالمسجود لہ ھو اﷲ تعالٰی الا ان ذٰلك السجود انما کان لاجلہ،وعندی ان ھذالتاویل متعین لانہ لایستبعد من عقل یوسف و ودینہ ان یرضی بان یسجد لہ ابوہ مع سابقتہ فی حقوق الابوۃ و الشیخوخۃ والعلم والدین وکمال النبوۃ [1]۔ |
کا ارشا دہے بروایت عطا بن ابی رباح رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے اس آیۃ خروا لہ سجدا سے مراد یہ ے کہ وہ سب حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کے پالینے کی نعمت پر اﷲ تعالٰی کے لئے سجدہ ریز ہوئے۔لہذا خلاصہ کلام یہ ہے کہ وہ سجدہ تو اﷲ تعالٰی کے شکر ادا کرنے کا سجدہ تھا لہذا اس میں"مسجودلہ"(وہ جس کے لئے سجدہ کیا جائے"اﷲ تعالٰی ہے۔البتہ وہ سجدہ حضرت یوسف کی وجہ سے تھا یعنی ان کو پالینے کی خوشی میں اﷲ تعالٰی کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کے لئے سجدہ بجالایا گیا اور میرے (یعنی امام فخر الدین رازی کے) نزدیك یہی تاویل و توجیہ متعین ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ حضرت یوسف کی ذہانت او رکمال عقل اور صاحب دین ہونے کی وجہ سے یہ بعید ہے کہ وہ اس بات پر راضٰ ہوجائیں کہ ان کے بوڑھے باپ جو حقوق ابوت(پدری حقوق)مقام نبوت،بڑھاپے، علم اور دین اور ان تمام اوصاف میں)ان سے درجہ اولویت اور سبقت رکھتے ہوں،ان کے آگے سجدہ کریں۔(ت) |
پھر فرمایا:
|
الوجہ الخامس لعل التحیۃ فی ذٰلك الوقت ھوا لمسجود وھذا فی غایۃ البعد لان المبانعۃ فی التعظیم کانت الیق بیوسف منھا یعقوب علیھما الصلٰوۃ و السلام فلو کان الامر کما قلتم لکان من الواجب ان یسجد یوسف یعقوب علیہما الصلٰوۃ والسلام [2]۔ |
پانچویں وجہ:اس دورمیں،شائد تعظیم کے لئے سجدہ ہوا کرتا تھا(اور جو کچھ مروی ہوا)یہ عقل ہے انتہائی بعید ہے کیونکہ تعظیم میں مبالغۃ اختیار کرنا حضرت یوسف کے زیادہ لائق اور مناسب تھا کہ وہ اپنے والدبزرگوار حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام کے لئے کرتے،لہذا اگر معاملہ اب ایسا ہے جیسا کہ تم نے کہا تو پھر حضرت یوسف کے لئے واجب تھا کہ وہ اپنے والد گرامی حضرت یعقوب علیہما الصلٰوۃ والسلام کو سجدہ کرتے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع