30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو سجدہ کہ مشائخ کے سامنے سجدہ رہ گیا اب کسے روئیں گے۔وہ چھتیس۳۶ جگہ لام اور را اور کو جو نمبر ۱۳۴ میں گزرے۔
(۱۳۹)مگریہ بھی وقتی بول ہے کہ مُنہ سے نکل گیا۔ہر گز یہ بکر کے دل کی نہیں کہ مشائخ کو سجدہ تحیت نہ ہو صرف اس کے سامنے ہو۔نہ ہر گز یہ اس کے فاعلوں کی نیت ہوتی ہے بلکہ یقینا مشائخ ومزارات ہی کو سجدہ کرتے اور اسی کا قصد رکھتے اور اسی پر لڑتے جھگڑتے ہیں تو بکر پر" یَقُوۡلُوۡنَ بِاَفْوٰہِہِمۡ مَّا لَیۡسَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمْ ؕ " [1](وہ اپنے مونہوں سے وہ کچھ کہتے ہیں جوان کے دلوں میں نہیں۔ت) صادق، ع
مُنہ سے کہتے ہیں جو دل میں نہیں
(۱۴۰)جب یہ ٹھہری کہ سجدہ مشائخ کو نہیں وہ صرف سمت ہیں اور سجدہ اﷲ تعالٰی عزوجل کو،تواب سجدہ عبادت وتحیت کا تعدد وباطل،کیا اﷲ کو کبھی سجدہ معبود سمجھ کر ہوگا وہ سجدہ عبادت ہے اور کبھی بغیر معبود سمجھے وہ سجدہ تحیت ہے حاشا اسے ہر سجدہ معبود ہی جان کر ہوگا تو صرف سجدہ عبادت رہ گیا سجدہ تحیت خود ہی باطل ہوا اور صفحہ ۵،۶،۷ وغیرہا کی ساری لفاظیاں باطل ولغو ہوگئیں۔
(۱۴۱)لغو ہی نہیں بلکہ مراد بکر پر پانی پھر گئیں۔جب ہر سجدہ سجدۂ عبادت ہے اور اسے اقرار ہے کہ سجدہ عبادت کے لئے اﷲ تعالٰی نے کعبہ کو سمت ٹھہرایا ہے تو مشائخ یا مزارات کو اس کی سمت بنانا اﷲ عزوجل سے صریح مخالفت وحرام ہے۔
(۱۴۲)اب شرائع سابقہ اور نسخ اور قطعی وظنی کا سب جھگڑا خود ہی چکا دیا اﷲ عزوجل قرآن عظیم میں فرماچکا:
|
" حَیۡثُ مَا کُنۡتُمْ فَوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمْ شَطْرَہٗؕ"[2] |
تم جہاں کہیں ہو کعبہ ہی کو منہ کرو۔ |
تو جس طرح اس آیت سے بیت المقدس کا قبلہ منسوخ ہوگیا اور جو اس طرف نماز کا قصد کرے مستحق جہنم ہے یونہی آدم و یوسف علیہما الصلٰوۃ والسلام کے یہاں جو معظمین دین کو سمت بنانا تھا وہ بھی بعینہٖ اسی آیت سے منسوخ ہوگیا اور مشائخ ومزارات کو سمت بنانے والا حکم الٰہی کا مخالف ومستحق نار ہواجیسے کوئی بہن سے نکاح کرے اس سند سے کہ شریعت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام میں جائز تھا۔واقعی علی نفسہا تجی براقش۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع