30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صفحہ ۲۱:
|
سجد الرجل للسلطان ولغیرہ یرید بہ التحیۃ لایکفر [1]۔ |
کسی شخص نے بادشاہ یا کسی اور کو سجدہ کیا کہ جس سے اس کی تعظیم مراد تھی تو وہ(اس کام سے کافرنہ ہوگا۔ |
صفحہ ۲۲"سجدہ تحیت آدمی کے لئے ہے سجدہ عبادت خدا کے لئے"ایضا،سجدہ تحیت نبی کے لئے،پیر کے لئے،بادشاہ کے لئے، والدین کے لئے،آقا کے لئے،ایضا"بادشاہ کو سجدہ کیا یا اور کسی کو اور تعظیم کی نیت ہوئی تو کافر نہیں"ص ۲۳"سجدہ تعظیمی تمام بزرگوں کو کیا جاتاتھا"ایضا"بزرگوں کو تعظیمی سجدہ"ص ۲۴"مزاروں کو سجدہ"غرض اول تا آخر تحریر بکر شاہد اور خود ہر شخص آگاہ غیر خدا کو سجدہ کرنے میں کلام ہے نہ کہ غیر کی طرف،کعبہ کی طرف ہر مسلمان سجدہ کرتا ہے اور کعبہ کو سجدہ کرے تو کافر۔
(۱۳۷)بکر نے بعلت عادت خودکشی کہ اوھوفی الخصام غیر مبین o(وہ کھل کر واضح طور پر جھگڑا لو نہیں۔ت)ص ۱۰ پر "سجدہ کی مجازی وحقیقی سمت"کی سرخی دے کر اپنی اگلی پچھلی ساری کاروائی خاك میں ملائی نافع ومضر میں بے تمیزی اس پر لائی کہ وہی قول مان لیا جس پر سجدہ آدم کو سجدہ نزاعی سے کچھ تعلق نہ رہا اور اسی کو اپنے مزعوم سجدہ کا مطلب قرار دیا تصریح کردی کہ"درحقیقت آدم کا سجدہ نہ تھا بلکہ وہ خدا کی جانب سجدہ تھا آدم محض ایك سمت تھے جیسا کعبہ ہمارے سجدوں کی سمت ہے تو کیا پتھروں کا بناہوا کعبہ تو سمت سجدہ ہوسکتا ہے اور آدم کا وجود جو خلیفہ اﷲ اور انوار الٰہی کا زندہ خزانہ ہے سجدہ کی سمت نہیں ہوسکتا بالکل عیاں ہے کہ کعبہ کی طرح آدم بھی سجدہ تعظیمی کی سمت مجازی ہے"چلے فراغت شہ سارا دفتر گاؤں خورد(سارا دفتر گائے کے کھالیا۔ت)جس شخص کویہ تمیزنہ ہو کہ اس کے سرمیں کیا ہے اور منہ سے کیا نکلتاہے یہ ادراك نہ ہوکہ وہ اپنا گھر بناتایا یکسر ڈھارہا ہے اس کا مدارك علیہ میں دخل دینا عجب تماشا ہے۔
(۱۳۸)وہ جو ص ۲۱ پر بحوالہ لطائف مرصاد سے نقل اور ص ۲۲ پر اس کا ترجمہ کیا کہ"مشائخ کے سامنے جو سجدہ کیاجاتاہے یہ سجدہ نہیں بلکہ تعظیم ہے اپنے معبود کے نور کی جو مشائخ میں جلوہ فگن ہوتا ہے"یہ بھی وہی سارے گھر کا ستیاناس لگالینا ہے۔یہ عبارت لطائف کا ساتواں فائدہ ہے مشائخ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع