30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نمطہ من الاعتماد علی ارجح الاقول [1]۔ |
زیادہ راجح قول پر اعتماد کرتے ہوئے۔(ت) |
تو ان چاروں اکابر کے نزدیك راجح قول دوم ہے کہ محض جھکنا تھا نہ کہ سجدہ معروفہ،بعض گروہ دیگر کے نزدیك قول اول راجح ہے وبہ اقول لقعوا وخروا(اور میں یہی کہتاہوں(ترجیح قول اول)اس لئے کہ قرآن مجید میں الفاظ"قعوا"اور"خروا"ہیں یعنی اس کے لئے سجدہ میں پڑ جاؤ اور اس کے لئے وہ سجدہ میں گرگئے۔بہر حال خود اختلاف نافی قطیعت ہے نہ کہ ترجیح بھی مختلف۔
(۱۳۴)بکر ص ۵ پر اس سے بچاؤ کے لئے زعم کہ سجدے کی صورت سوائے موجودہ شکل کے اور کوئی نہیں ہے۔اور بعض غیرمسلم اقوام میں جو سجدہ کی تعریف ہے وہ اسلامی سجدہ نہیں بلکہ رکوع کے مشابہ ہے"سخت جہالت ہے کیا امام اجل محمد بن تابعی تلمیذ ام المومنین صدیقہ وعبداﷲ بن عباس وعبداﷲ بن عمر وابوہریرہ وجابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہم وامام جلیل احد التابعین ابن جریح تلمیذ امام ہمام جعفر صادق واستاد الاستاذ امام شافعی رحمہم اﷲ تعالٰی اور امام محی السنۃ بغوی وامام فخر الدین رازی وامام خازن وامام جلال الدین المحلی وامام جلال الدین سیوطی وغیرہم اکابر معاذاﷲ غیر مسلم اقوام سے ہیں یا اصطلاحات کفار سے قرآن عظیم کی تفسیر کرتے ہیں۔
(۱۳۵)سجدہ تلاوت کہ نماز میں واجب ہو فورا بشکل رکوع بھی ادا ہوجاتاہے یونہی رکوع نماز میں اس سجدہ کی نیت کرنے سے جبکہ چار آیت کا فصل دے کرنہ ہو،اور ایك روایت میں بیرون نماز بھی اس سجدہ میں رکوع کافی ہے۔تنویر الابصار ودرمختار میں ہے :
|
(تودی)برکوع وسجود)غیر رکوع الصلٰوۃ و سجودھا (فی الصلٰوۃ لھا)ای للتلاوۃ و تودی(برکوع صلٰوۃ علی الفور[2]۔ |
جو سجدہ تلاوت کو نماز میں تلاوت کی وجہ سے واجب ہو وہ نماز کے رکوع،سجدہ کے علاوہ الگ رکوع اور سجدہ سے ادا کیا جاسکتاہے لیکن اگر نماز میں ایك دو،یا تین آیتیں پڑھنے سے فورًا رکوع کیا تو سجدہ تلاوت اس سے بھی ادا ہوجائے گا بشرطیکہ رکوع میں اسے ادا کرنے کی نیت کرے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
وروی فی غیر الظاھر ان الرکوع ینوب عنہا |
غیر ظاہر روایت میں مروی ہے کہ رکوع بیرون نماز |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع