30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثابت ہونابوجوہ باطل:
وجہ اول:علماء کو اختلاف ہے کہ یہ سجدہ زمین پر سررکھنا تھا یا صرف جھکنا،سرخم کرنا،ابوالشیخ کتاب العظمہ میں امام محمد بن عبادبن جعفر مخرومی سے راوی:
|
قال کان سجود الملئکۃ لاٰدم ایماء [1]۔ |
آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ملائکہ کا سجدہ اشارہ تھا۔ |
ابن جریر وابن المنذر وابوالشیخ امام عبدالملك بن عبدالعزیز بن جریح سے تفسیر قولہ تعالٰی " وَخَرُّوۡا لَہٗ سُجَّدًا ۚ " (اﷲ تعالٰی کے ارشاد خروالہ سجدا یعنی حضرت یوسف کے والدین اور ان کے برادر حضرت یوسف کےلئے سجدے میں گر گئے۔ت)میں راوی:
|
قال بلغنا ان ابویہ واخوتہ سجدوا یوسف ایماء برؤسھم کھیئۃ الاعاجم وکانت تلك تحیتھم کما یصنع ذٰلك ناس الیوم [2]۔ |
ہمیں حدیث پہنچی کہ یوسف علیہ الصلٰوۃ واسلام کو ان کے ماں باپ بھائیوں کا سجدہ سرے اشارہ کرنا تھا جیسے اہل عجم کے یہاں یہ ان کی تحیت تھی جس طرح اب بھی کچھ لوگ کرتے ہیں کہ سلام میں سرجھکاتے ہیں۔ |
امام فخر الدین رازی وغیرہ نے محاورات وغیرہ نے عرب سے اس معنی سجدہ کا اثبات کیا،امام بغوی نے معالم التزیل اور امام خازن نے لباب میں اسی کو اختیار فرمایا اور قول اول کو ضعیف کہا سجدہ ملائکہ میں فرماتے ہیں:
|
لم یکن فیہ وضع الوجہ علی الارض انما کان انحناء فلما جاء الاسلام ابطل ذٰلك بالسلام [3]۔ |
یعنی وہ زمین پر منہ رکھنا نہ تھا صرف جھکنا تھا جب اسلام آیا اسے بھی سلام مقرر کرکے باطل فرمادیا۔ |
سجدہ یوسف میں فرماتے ہیں:
|
لم یرد بالسجود وضع الجباہ علی الارض و |
یعنی سجدے سے زمین پر پیشانی رکھنامراد نہیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع