30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱۳۰)اگر دین وعقل وادب ائمہ نصیب ہو اگر آدمی آئینہ میں اپنا منہ دیکھے اگر چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانے کو شناخت جانے،اگر ہلدی کی گرہ پر پنساری نہ بننے تو اتنا ہی دیکھنا بس تھا کہ قرآن کریم کی یہ آیتیں ائمہ دین وجماہیر اولیائے کاملین رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے مخفی نہ تھیں حجت شرائع سابقہ ونسخ وفرق قطعی و ظنی کے مسائل یقینا ان کے پیش نظر تھے آخر انھوں نے سجدہ تحیت کی تحریم وممانعت کچھ دیکھ بھال ہی کررکھی ہوگی یا ایسے پیش یا افتادہ اعتراضوں کی ان میں کسی کو سوجھ نہ ہوئی کیا وہ سب کے سب تم سے بھی علم وفہم عقل ودین میں گئے گزرے تھے۔
(۱۳۱)جانے دو ردالمحتار وفتاوٰی قاضی خاں پر تمھارا ایمان ہے کہ ص ۱۲"نہایت مشہور معتبر کتابیں ہیں قرآن وحدیث کے غور واحقاق کے بعد ان کو مرتب کیا ہے"ہم نے انھیں کتابوں سے دکھادیا کہ سجدہ تحیت کم از کم حرام وگناہ کبیرہ ہے اور سوئر کھانے سے بھی بدتر،قرآن مجید میں سجدہ آدم ویوسف علیہما الصلٰوۃ والسلام کی آیتیں انھیں نہ سوجھیں تو خاك غور واحقاق کیا،یہ بھی جانے دواسی غور واتحقاق والی رد المحتار سے اس تمام بے سروپا تقریر کا خاص رد لو،ردالمحتار کی جلد پنجم کتاب الحظروالاباحۃ میں قبیل فصل فی البیع ہے:
|
اختلفوا فی سجود الملٰئکۃ قبل کان ﷲ تعالٰی والتوجہ الٰی آدم للتشریف کاستقبال الکعبۃ وقیل بل لاٰدم علی وجہ التحیۃ والاکرام ثم نسخ بقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لوامرت احدا ان یسجد لاحد لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا تاترخانیۃ قال فی تبیین المحارم والصحیح الثانی ولم یکن عبادۃ لہ بل تحیۃ واکراما ولذا امتنع عنہ ابلیس وکان جائزا فیما مضی کما فی قصۃ یوسف قال ابومنصور الماتریدی وفیہ دلیل علی نسخ الکتاب بالسنۃ [1]۔ |
یعنی سجدہ ملائکہ میں علماء کو اختلاف ہو ا بعض نے کہاسجدہ اﷲ تعالٰی کے لئے تھا اور آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کے اعزاز کے لئے منہ ان کی طرف تھا جیسے کعبہ کو منہ کرنے میں ہے اور بعض نے کہا بلکہ سجدہ ہی آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو تحیت وتکریم کے طور پر تھا پھر اس حدیث سے منسوخ ہوگیا کہ اگر میں کسی کوسجدہ کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ شوہر کو سجدہ کرے یہ تاتارخانیہ میں ہے،اور تبیین المحارم میں فرمایا صحیح قول دوم ہے اور یہ ان کی عبادت نہ تھا بلکہ تحیت وتکریم،ولہذا ابلیس اس سے باز رہا اور سجدہ تحیت اگلی شریعتوں میں جائز تھا جیسا کہ قصہ یوسف علیہ الصلٰوۃ ولسلام میں ہے۔امام اجل علم الہدٰی امام اہلسنت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع