30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ ہوئی توامتیاز کیا خاك ہوایا زعم بکر میں معاذاﷲ رسول اﷲ کی عقل اتنی موٹی بکر کی مَت سے بھی گئی گزری کہ خدا کے واضح امتیاز کے بعد بھی تمیز نہ ہوئی اور دونوں کفر صریح ہیں ہم نہ کہتے تھے کہ جاہل کو مصنف ہی بننا سخت آفت کاسامنا ہے نہ کہ محقق نہ کہ مجتہد نہ کہ شارع کہ تصنیف توتیار ہوجاتی ہے اور ایمان رخصت،لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم(گناہ سے بچاؤ اور نیکی کی قوت بجز اﷲ تعالٰی بلندمرتبہ بڑی شان والے کے کرم کے بغیر کسی میں نہیں۔ت)
(۱۲۲)جب یہ ٹھہری کہ ص ۶"سمت کعبہ کا سجدہ عبادت کا سجدہ ہے جو غیر خدا کو جائز نہیں اور غیر مقررسمت کے سجدے جائز ہیں"تو بلا شبہہ مندروں میں جو سجدے کئے جاتے ہیں غیر مقرر سمت کے ہیں تو بکر نے دوبارہ بتوں اور لنگ جلہری کو سجدے جائز قراردئے کیونکہ یہی کرشن مت ہے۔
(۱۲۳)جبکہ تقرر سمت سے سجدہ عبادت وسجدہ تحیت میں امتیاز ہوا نزول" فَثَمَّ وَجْہُ اللہِؕ "تك امتیاز نہ تھا تو قطعا اس وقت سجدہ تحیت حرام تھا کہ غیر خدا کے لئے وہ فعل جسے عبادت سے کچھ فرق نہ ہو حلال نہیں ہوسکتا اور جب سجدہ تحیت اس وقت حرام تھا تو غیر ملت آدم ویوسف علیہما الصلٰوۃ والسلام میں اگر اس کی حلت بھی تھی یقینا منسوخ ہوگئی اور اب اس ناسخ کا ناسخ کوئی ہے نہیں تو یقینًا سجدہ تحیت حرام ہے اور تاقیامت حرام رہے گا اچھی تقریر سنائی کہ اپنی ساری چنائی آپ ہی ڈھائی۔
(۱۲۴)ص ۱۰"خدا نے فرمایا ہے: " فَلْیَعْبُدُوۡا رَبَّ ہٰذَا الْبَیۡتِ ۙ﴿۳﴾"[1]،عبادت کریں اس گھر کے پالنے والے کی۔اس صورت میں رب ھذا البیت کالفظ ہے اور قاعدہ عرب کے بموجب رب کا لفظ ذی روح پر آتاہے اور کعبہ زی روح نہیں پتھر کا مکان ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اس بیت سے مراد قلب آدم ہے"یہ اﷲ سبحانہ پر پانچواں افتراء بھی ہے اور قرآن کی تفسیر بالرائے بھی اور بتصریح کتب عقائد الحاد بھی کہ معنی ظاہر باطل کرکے باطنیہ کی طرح باطنی گھڑے،متن عقائد امام اجل نسفی رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں ہے:
|
النصوص تحمل علی ظواھر ھاوا العدول عنھا الی معان یدعیھا اھل الباطن الحاد [2]۔ |
نصوص اپنے ظاہر پر حمل کئے جاتے ہیں،لہذا ظاہر معانی سے ہٹ کر اپنے معانی تراش لینا کہ جن کا اہل باطن دعوٰی کرتے ہیں سراسر بے دینی ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع