30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
القراٰن فما وجدتم فیہ من حلال فاحلوہ وماوجد تم فیہ من حرام فحرموہ وان ماحرم رسول اﷲ کما حرم اﷲ الا لایحل لکم الحمار الاھلی والاکل ذی ناب من السباع [1] الحدیث |
اس میں جو حلال پاؤ اسے حلال جانو اور اس میں جو حرام پاؤ اسے حرام مانو حالانکہ جو چیز رسول اﷲ صل اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے حرام کی وہی اسی کی مثل ہے جو اﷲ نے حرام فرمائی، سن لو پالتو گدھا تمھارے لئے حلال نہیں۔نہ کوئی کیلے والا درندہ الحدیث۔(ت) |
سجدہ تحیت بھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے حرام فرمایا تو وہ حرام ہے اگر چہ قرآم کریم میں اس کی حرمت کی تصریح عوام کو نہ سوجھے۔
(۱۰۱ و ۱۰۲)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے دو۲ مثالیں ارشاد فرمائیں پالتو گدھا اور کیلے والا درندہ ان کی حرمت قرآن میں مصرح نہیں اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے انھیں حرام فرمایا۔بکر کیوں ماننے لگا وہ یہی کہے گا ص ۸ کہ"جب قرآن نے کوئی صاف حکم نہ دیا تو حرام یاناجائز ہونا ثابت نہیں ہوسکتا"تو بکر نے گدھا اور کتا حلال کرلیا۔
(۱۰۳ تا ۱۱۰)انھیں پر بس نہیں قرآن میں لحم خنزیر کا ذکر ہے گردے کلیجی کھال اور جھڑی تلی ہڈی کا نام کہاں ہے بلکہ سری پائے بھی عرفا لحم میں نہیں تو بکر نے سوئر کے اجزا بھی حلال مانے کہ"جب قرآن نے صاف حکم نہ دیا ناجائز ہونا ثابت نہیں ہوسکتا"
(۱۱۱ تا ۱۱۳)غرض صاف حکم قرآن دلیل کا حصر کرکے بکر نے سنت اجماع،قیاس تین اصول شرع کو رد کرکے چکڑالوی مذہب لیا۔
فصل سوم: اﷲ عزوجل پر بکر کے افتراء اور خود اسی کے منہ قرآن عظیم سے تحریم سجدہ تحیت کا ثبوت
(۱۱۴)سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر افتراء اگر چہ اﷲ عزوجل پر افتراء ہے مگر بکر تو صریح خاص کا طالب ہے قرآن میں تصریح نہ ہو تو حدیث نہیں سنتا لہذا بالخصوص رب العزت پر بھی جرآتیں کیں ص ۹۵ میں اس کی عبارت دیکھ چکے خود مانا کہ سجدہ تحیت سے خدا کی عظمت کے انتہائی طریقے میں آدم کا شرك ہوتا تھا"پھر اسی کو اﷲ کی مرضی ٹھہرایا کہ"خدا کی مرضی تھی کہ میری خلافت کی تعظیم وہی چاہئے جو خود میری ہے"یہ اﷲ پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع