30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرو اسے اس ناپاك محمل پرڈھالنا جس سے وہ تین الزام شدید شان رسالت پر عائد کئے سخت خلاف دین ہے۔
(۹۵)خود بکر نے اسی سجدہ تحیت کو کہا ہے ص ۱۱"،سجدہ ایك ایسی چیز تھی جس میں سجدہ عبادت شریك تھا اور خدا کی عظمت کے انتہائی طریقہ میں خوا مخواہ آدم کا شریك ہوتا تھا اس سے ثابت ہوتاہے کہ خدا کی خود مرضی تھی کہ میری خلافت کی تعظیم وہی ہونی چاہئے جو خود میری ہے اس واسطے آدم کی عزت ایسے طریقے سے کرائی جو خدا کے سوا کسی کو زیبانہ تھا تاکہ سند ہوجائے کہ آدم خلافت کے بعد مجازی حیثت سے آخری تعظیم کا مستحق ہے جو حقیقت میں عبادت کی آخری شان ہے ایسی چیز سے ممانعت کے لئے" اعْبُدُوۡا رَبَّکُمُ" [1](اپنے رب کی عبادت کرو۔ت)فرمانا کیا مستبعدتھا۔
(۹۶)حدیث قیس وحدیث معاذ وحدیث سلمان رضی اﷲ تعالٰی عنہم میں تو"اعبدوا"نہیں ہے یہاں تو"لا تفعلوا اورلا یینبغی"ہے یہاں کس ذریعہ اس بدگمانی پر ڈھالے گا اسی لئے ان کو چھپایا اور کہہ دیا تھا کہ اور کوئی ثبوت نہیں۔
(۹۷)بکر نے چاند سورج بلکہ بت کو سجدہ اور مہادیو کی ڈنڈوت حلال کرلی جیسے یہاں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے عبادت کا ذکر فرمایا اور اس سے بکر نے یہ ٹھہرا لیا کہ صرف سجدہ عبادت کو منع کیا ہے یونہی آیہ کریمہ
" لَا تَسْجُدُوۡا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ"[2] (لوگو! سورج اور چاند کوسجدہ نہ کرو۔ت)جس میں سجدہ شمس وقمر سے ممانعت اور سجدہ الٰہی کا حکم ہے اس کا ترجمہ یہ ہے " اِنۡ کُنۡتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوۡنَ ﴿۳۷﴾"[3]اگر تم اسے پوچتے ہو۔یہاں بھی اﷲ عزوجل نے عبادت کا ذکر فرمایا ہے تو یہاں بھی چاند سورج کو صرف سجدہ کی ممانعت ہوئی،اب بت پرستی یا بھوت کسی بلا کو سجدہ تحیت کی ممانعت پر قرآن کریم میں کوئی آیت نہ رہی،کیا بکر کوئی آیت دکھا سکتاہے،ہر گز نہیں،اب بکر اپنی لفاظیاں یاد کرے اور"انسانی"کی قید سے ہاتھ اٹھا کر یوں کہے جو اس نے ص۷ پر کہا ہے قرآن میں کسی سجدہ تعظیم کی ممانعت نہیں ایسی کوئی آیت نہیں جہاں کسی سجدہ کی تعظیم کی ممانعت کی گئی ہو،اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تعظیمی سجدہ کے خلاف قرآن خاموش رہنا چاہتاہے یعنی وہ مسلمانوں سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع