30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کی مبلغ علم مشکوٰۃ میں یہ حدیث ام المومنین کا تتمۃ نہیں بلکہ چوتھی حدیث سلیمان فارسی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہے کہ انھوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو سجدہ کرناچاہا حضور نے فرمایا:
|
لاینبغی لمخلوق ان یسجد لاحد الاﷲ تعالٰی۔اوردہ الامام النسفی فی الدارك [1]۔ |
کسی مخلوق کو سزاوار نہیں کہ اﷲ کے سوا کسی کو سجدہ کرے۔ (امام نسفی اس کو مدارك میں لائے ہیں۔ت) |
یہ چار واقعہ جدا جدا ہیں حدیث صدیقہ میں اونٹ کا سجدہ دیکھ کر صحابہ نے اجازت چاہی،
قیس رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے حیرہ متصل کوفہ میں معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے یمن میں سجدہ حکام دیکھ کر اجازت مانگی اور ہر بارایك ہی جواب ارشاد ہوا کسی بار اجازت نہ ہوئی۔
سلمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے خود سجدہ ہی کرنا چاہا منع فرمایا۔
ان تینوں حدیثوں میں ایك فائدہ اور ہے جس کے لئے بکر نے ان کو چھپایا کہ عنقریب ظاہر ہوگا ان شاء اﷲ تعالٰی۔
(۹۰)حدیث صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا پر بکر کا ظلم اشد واخبث حد سے گزرگیا۔صفحہ ۹ پر کہا"سب سے بڑی بات تو یہ معلوم ہوتی ہےکہ حضور نے صحابہ کی خواہش کو سجدہ عبادت تصور کرکے جواب دیاتھا جبھی تو فرمایا کہ اپنے رب کی عبادت کرو اور اپنے بھائی کااٰحترام واکرام بجالاؤ آپ کے ذہن میں سجدہ تعظیمی ہوتا تو عبادت رب کا حوالہ نہ دیتے اور احترام وتعظیم کو عبادت سے الگ کرکے ظاہر نہ فرماتے اس وقت توآپ کے ذہن میں سجدہ عبادت تھا
|
انا ﷲ ونا الیہ راجعونo " کَبُرَتْ کَلِمَۃً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوٰہِہِمْ ؕاِنۡ یَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّاکَذِبًا ﴿۵﴾ "[2]۔ |
(یقینًا ہم اﷲ تعالٰی کے لئے ہیں اور(بلا شبہہ اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں)کیا بڑا بول ہے جو ان کے منہ سے نکل رہا ہے وہ تو نرا جھوٹ بك رہے ہیں۔ |
مسلمانو! محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جن پر قرآن کریم میں اترا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع