30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۸۶)بکر ہے ہوشیار حدیث ام المومنین صدیقہ نقل کی جس میں صریح صیغہ نہی تھا اور عوام کو دھودکا دینے کو لکھ دیا ص ۹"، اسی حدیث کو سجدہ تعظیمی کے مخالف سند میں پیش کیا کرتے ہیںسوا اس کے اور کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں ہے۔اول تو سند کا حدیث میں حصہ جھوٹ ہم نے بکر ہی کی مسلم سندوں سے ثابت کردیا کہ غیر خدا کو سجدہ تحیت حرام حرام حرام،سوئر کھانے سے بھی بدتر حرام۔
(۸۷)پھر حدیث کا اس ایك میں حصہ سفید جھوٹ،وہ حدیث صدیقہ شاید بکر نے مشکوٰۃ سے لی ہو کہ بکر کی اس تك رسائی ص ۱۵ سے نمبر ۴۲ میں ہوچکی ہے مشکوٰۃ کے اسی باب اسی فصل میں اس سے دو حدیث اوپر حدیث قیس رضی اﷲ تعالٰی عنہ موجود تھی جس میں صریح ممانعت موجود،اس نے چھپالیا اور کہہ دیا۔اور کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں"۔
(۸۸)نیز وہیں مشکوٰۃ میں تیسیری حدیث معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا پتا دیا تھا اسے بھی اڑا دیا اور کہہ دیا کہ"اورکوئی ثبوت نہیں"دین میں یہ چالاکیاں مسلمان کہلا کر نازیبا ہیں۔حدیث معاذ رضی اﷲ تعالٰی عنہ مسند امام احمد میں بسند رجال صحیح بخاری وصحیح مسلم یوں ہے۔
|
حدثنا وکیع ثنا الاعمش عن ابی ظبیان عن معاذ بن جبل انہ لما رجع من الیمن قال یا رسول اﷲ رأیت رجالا بالیمن یسجد بعضھم لبعض افلا نسجدلك قال لوکنت آمرابشرا یسجد لبشر لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا [1]۔ |
(ہم سے وکیع نے بیان کیا کہ اعمش نے ابی ظبیان سے انھوں نے معاذ بن جبل سے روایت کیا)یعنی جب معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ یمن سے واپس آئے عر ض کی:یا رسول اللہ! میں نے یمن میں کچھ لوگوں کو دیکھا آپس میں ایك دوسرے کو سجدہ کرتے ہیں،تو کیا ہم حضور کو سجدہ نہ کرے، فرمایا:میں اگر آدمی کو آدمی کے سجدہ کا حکم دینے والا ہوتوا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ |
(۸۹)اپنے ہی پاؤں پر تیشہ زنی،یہ کہ حدیث ام المومنین رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے تتمۃ میں وہ الفاظ بڑھادئے:
|
لاینبغی بشر ان یسجد لغیر اﷲ۔ |
کسی انسان کے لئے لائق نہیں کہ وہ اﷲ تعالٰی کے سوا کسی اور کو سجدہ کرے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع