30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یکون مثلہ فی العدالۃ [1]۔ |
ممدوح کے برابر کون عادل ہوگا۔ |
(۷۴)ص۱۴ پر جہاں چند حوالوں میں بے نقل عبارت صرف نام گنائے ہیں جن میں خاص کر معارف وسراجیہ وعزیزیہ وشرح مشکوۃ کے حوالے یقینا جھوٹ ہونا اوپر واضح ہوچکا اور فتاوی تیسیر کوئی فتاوی ہی نہیں انھیں میں چھٹا نام معین الدین واعظ کی تفسیر سورہ یوسف کا ہے بکر جب اس قدر شدید الاجتراء کثیر الافتراء ہے تو اس حوالے پر کیا اعتماد،اور ہو تو تصریحات ائمہ و ارشادات حدیث کے مقابل ایك واعظ کی بات سے کیا استناد،یہ حقیقت ہے بکر کی سندوں کی،ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم(گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت بلندمرتبہ اور عظیم شان والے اﷲ تعالی کی توفیق دینے کے سوا کسی میں نہیں۔ت)
فصل دوم: رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر بکر کے افتراء
اور حدیث سے تحریم سجدہ تحیت کا ثبوت
(۷۵)بھلا یہاں تك تو لغت وفقہ و ائمہ وصحابہ رضی اﷲ تعالی عنھم ہی پر افتراء تھے مگر بکر کی بڑھتی ہمت کیا صبر کرے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر بھی افتراء سے باز نہ آئی ص۹ پر کہا:خود آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:کلامی لاینسخ کلام اللہ[2]میرا کلام خدا کے کلام کو منسوخ نہیں کرسکتا،یہ حدیث ابن عدی ودار قطنی نے بطریق محمد بن داؤد القنطری عن جبرون بن واقد الافریقی روایت کی ابن عدی نےکامل اور ابن جوزی نے علل میں کہا یہ حدیث منکر ہے،ذہبی نےمیزان میں کہا جبرون متہم ہے اس نے قلت حیا سے یہ حدیث روایت کی ترجمہ،قنطری میں کہا یہ حدیث باطل ہے،ترجمہ افریقی میں کہا یہ حدیث موضوع ہے،امام حجر نے لسان المیزان میں دونوں جگہ ان کے یہ کلام مقرر رکھے،بعد وضوح امر ایك منکر،باطل،موضوع حدیث متہم بالکذب کی روایت کو کہنا کہ حضور نے فرمایا ہے،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر افتراء کی جرأت ہے۔
(۷۶)بکر مدعی حنفیت حنفیت سے جدا چلا،مذہب حنفی میں بیشك آیت حدیث سے منسوخ ہوسکتی ہے کما ھو مصرح فی کتب اصولھم قاطبۃ(جیسا کہ اصول کی عام کتابوں میں اس کی تصریح موجود ہے۔ت)احکام میں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا کلام اﷲ عزوجل ہی کا کلام ہے تو کلام خدا کلام خدا ہی سے منسوخ ہوا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع