30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بزرگے دیگر گوید ؎ شعاع روز بہی تابد از جبین کسے کہ درپستش تو برنہد بخاك جبین [1] |
اور جس جگہ غمزدہ ہو تو ہاتھ تجھ سے دعا کے لیے ہیں"۔ "ایك دوسرے بزرگ فرماتے ہیں: ؎ "ابد تك روشن شعاع کسی کی پیشانی سے پھوٹتی ہیں کہ تیری پرستش کے لئے وہ پیشانی زمین پر رکھ دیتاہے"(ت) |
یہاں تو نہ نرا مسجود بلکہ پرستش موجود،اب کہہ دینا کہ حضرت سلطان الاولیا رضی اﷲ تعالٰی عنہ معاذاﷲ غیر خدا کے لئے سجدہ عبادت روا جانتے تھے جیسے یہاں پرستش بمعنی عبادت نہیں بلکہ خدمت یونہی وہاں مسجود بمعنی مخدوم ومطاع،یہ خود مشہور معنٰی ہیں اور عام محاورہ میں مستعمل ہے۔مگر عناد کا کیا علاج۔
(۶۴)بکر کو ہر قسمِ اختراع میں کمال ہے لغت میں بھی اجتھاد ہے لفظ کے معنی بھی دل سے تراش لیے جاتے ہیں عالمگیری پر افتراء نمبر اول میں یہ لفظ گھڑے"اوطأ طأ راسہ فلا باس"جس کا صاف ترجمہ یہ تھا"یا سرخم کیا تو حرج نہیں"اسے یہ بنالیا ص ۱۳"،یااپنے سر کو زمین پر رگڑے تو کچھ مضائقہ نہیں"بکر سے پوچھئے طأطأۃ کا ترجمہ"زمین پر رگڑنا"کہاں کی زبان ہے۔مقام حیرت ہے جب اصل عبارت ہی اپنی ساختہ پر داختہ تھی جس کاعالمگیری میں تھل نہ بیڑا تو سرے سے اوسجدلہ کیوں نہ گھڑلیا اس کی کیا ضرورت آڑے آئی کہ لفظ طأطأ رکھ کر ترجمہ بھی جھوٹا کرے مگر یہ کہ اختراع میں اپنی مہارت دکھانی کہ عبارت بھی دل سے تراشیں پھر اس جھوٹ کا ترجمہ جھوٹ درجھوٹ گھڑیں "ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍؕ"[2](اتنے زیادہ اندھیرے ہیں کہ وہ ایك دوسرے پر چھائے ہوئے ہیں۔ت)
(۶۵)سیر الاولیاء میں تھا:مرید زمین بوسید [3]اس کا ترجمہ یہ تراشہ گیا"مرید زمین پر سر بسجود ہوگیا"۔اگر ترجمہ کتاب پر یہ حسب عادت بکری افتراء ہے تو ظاہر ورنہ فحوائے حدیث صحیح مسلم"فھو احد الکاذبین"تو وہ ایك جھوٹا ہے۔ت)نقد وقت ہے لطائف میں تھا بعضے اصحاب روایت شرعی ہم آوردہ آند [4]"جس کا ترجمہ بکر نے یہ کیا"بعض اصحاب شرعی کی روایت بھی لاتے ہیں"کہ استمرار پر دلالت کرے حالانکہ اس کا حاصل صرف اس قدر کہ کوئی صاحب اس پر روایت شرعی بھی لائے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع