30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حضرت یوسف واخوان ایشان واقع شدہ کہ"وخروالہ سجدا درشریعت ماایں طریق ہم فیما بین مخلوقات حرام ست بدلیل احادیث متواترہ کہ دیں باب وارد شدہ [1]۔ |
حضرت ابویوسف کے بھائیوں کے واقعہ میں مذکور کہ انھوں نے یوسف کو سجدہ کیا۔لیکن ہماری شریعت میں یہ طریقہ بھی لوگوں کا آپس میں اختیار کرنا حرام ہے ان متواترحدیثوں کی وجہ سے جو اس باب میں وارد ہوتیں۔(ت)تو یہ افتراء بھی سو افتراء ہے۔ |
(۶۲)جس کی یہ قاہر تصریحیں ہوں اس کے ایك محاورہ کے لفظ مسجود خلائق کو معنی حقیقی شرع پر حمل کرنا اوراس سے اس کے نزدیك جواز نکالنا صریح ہٹ دھرمی ہے یوں تو شاہ صاحبسے بدرجہاں اعلم واعظم حضرت شیخ محقق مولٰنا عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کی مدارج شریف میں ہے رب عزوجل نے حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت فرمایا:
|
تسمیہ کردم او را بحمد واحد محمود وگردانیدم او را عابدو معبود [2]۔ |
میں نے ان کا نام محمد،احمد اور محمود رکھا،اور میں نے ان کو عابد اور معبود بنایا(یعنی خدا کی عبادت کرنے والا اور لوگوں کا محبوب اور مخدوم)(ت) |
اب یہاں بھی کہنا کہ حضرت محدث دہلوی"معبود"کا لفظ کسی بندے کے حق میں لکھتے ہیں یا کسی خدا کے ص ۱۶،سجدہ تحیت بالائے طاق عبادت مخلوق بھی جائز کرلینا اور یہ"کسی خدا"بھی عجیب لفظ ہے۔معلوم نہیں بکر کے نزدیك کتنے خدا ہیں شاید کرشن مت کے چھپن کروڑلئے ہوں۔
(۶۳)بکر نے جو مضمون فوائد الفواد سے نقل کیا بعینہٖ یہی مضمون سیرا لاولیاء میں حضرت سلطان الاولیا رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے:
|
دریں حال کہ اوپیش مابود وحید الدین قریشی درآمد وسر بر زمین نہاد۔شیخ سعدی خویش گوید ؎ ہرجا کہ روئے زندہ دلے برزمین تست ہر جا کہ دست غمزدہ دردعائے تست |
اسی حال میں جب وہ میرے سامنے تھا وحید الدین قریشی آیا اور اس سرزمین پر رکھا۔شیخ سعدی علیہ الرحمۃ کیا خوب فرماتے ہیں: ؎ "جس جگہ چہر تازہ ہو تو وہ تیری زمین پر بچھا ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع