30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہاں تھا قیام ومصافحہ ودست بوسی کا ذکر تھا جس کا صاف یہ مطلب کہ جیسے اب یہ افعال تحیت ہیں یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام کے زمانے میں سجدہ تحیت تھا۔پھر جرت علیہ عادۃ الناس"سے اتنا ثابت کہ زمخشری کے زمانے میں ان کا رواج ہے قرن اول کایہاں کون ساحرف تھا،نہ قرن اول میں قیام ودست بوسی عادت ناس تھی،وقوع خاص وعادت ناس میں جو فرق نہ کرے جوہل ہے تو یہ کشاف پر دہورا افترا ہے۔
(۵۸)بکر اس کی عبارت میں بھی قطعو بریدسے نہ چوکا،وہ جو اس نے سوال قیام کیا تھا کہ اگر تو کہے انھیں غیر خدا کے لئے سجدہ جائز ہوگیا صاف اڑادیا جس سے کھلتا تھا کہ ہماری شریعت میں ناجائز ہے جس پر سوال ناشیئ ہوا،اگر ہماری شریعت میں بھی جائز ہوتا تو سوال کا کیا منشا تھا۔
(۵۹)اسی طرح کشاف میں عبادت وتحیت کا فرق بتا کر کہا:
|
یجوز ان یختلف الاحوال والاوقات فیہ [1]۔ |
اس میں احوال واوفات کا اختلاف ہوسکتاہے۔ |
یعنی جب جائز تھا اب حرام،یہ کسے کہا،سجدہ تحیت کو یا سجدہ عبادت کو،کیا وہ بھی کسی زمانے میں غیر خدا کے لئے جائز وھوسکتا ہے۔یہ ہے کل جمع کشاف کا کلام جس پر وہ صریح تہمت رکھدی کہ"بہت شرح وبسط سے تعظیمی سجدہ کی اباحت پر زور دیا ہے" ص ۱۴۔ ؎
غرض اومفتری نتواں برآمد کہ اواز خود سخن می آفریند
(جھوٹ کہنے والے سے یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ خود بات کو گھڑ لیتا ہے۔ت)
(۶۰)شاہ عبدالعزیز صاحب کو قول افتراء کے ساتھ فعلی افترا سے بھی نہ چھوڑا کہ"وہ خود والدین و اولیاء اﷲ کے مزارات پر سجدہ تعظیمی ادا کرتے تھے"ص ۱۴۔اﷲ عزوجل فرماتاہے: " ہَاتُوۡا بُرْہٰنَکُمْ اِنۡ کُنۡتُمْ صٰدِقِیۡنَ﴿۱۱۱﴾ "[2]اپنی برہان لاؤ اگر سچے ہو۔
(۶۱)یہ وہی شاہ عبدالعزیز صاحب ہیں جن کے فتوٰی سے سن چکے کہ سجدہ تحیت باجماع قطعی حرام ہے یہ وہی شاہ صاحب ہیں جو تفسیر عزیزی میں فرماتے ہیں:
|
درامتہائے سابقہ جائز بود چنانچہ درقصہ |
پہلی امتوں میں سجدہ تعظیمی جائز تھا،جیسا کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع