30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہ رسالہ کہ کبھی مشہور نہ تھے،نہ ہیں۔کسی الماری سے کوئی نسخہ نقل ہو کر چھپ جانا اسے کتاب مشہور نہ کردے گا۔
(۵۴)ثالث تمام مدارج طے ہونے کے بعد یہی جواب کافی ووافی کہ جمہور اولیاء وجمیع ائمہ منع پر ہیں تو اجماع ہوا اور اجماع کے خلاف اقوال شان مستند نہیں ہوسکتے۔
(۵۵)یہی عبارت مباحث معدن المعانی میں ہیں۔
(۵۶)جب بکر کی جرأتیں یہاں تك ہیں تو اس تحریف کی کیا شکایت کہ لطائف میں دربارہ سجدہ ملائکہ ملتقط سے نقل ہوا:
|
کان السجدۃ لھاطر فان طرف التحیۃ و طرف العبادۃ فالتحیۃ کانت لاٰدم والعبادۃ ﷲ تعالٰی [1]۔ |
یعنی اس سجدے کی دو طرفیں تھیں۔طرف تحیت وطرف عبادت،ان میں تحیت تو حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ واسلام کے لئے تھی اور عبادت اﷲ عزوجل کے لئے۔ |
اسے یوں بنالیا ص ۲۲ کہ سجدہ کی دوقسمیں ہیں:ایك سجدہ تحیت،ایك سجدہ عبادت،پس سجدہ تحیت آدمی کے لئے ہے اور سجدہ عبادت خدا تعالٰی کے لئے"شاید دہلی کے شاعر نے بکر ہی سے کہا تھا کہ ؎
عیار ہو بیباك ہو جو آج ہو تم ہو بندے ہو مگر خوف خدا کا نہیں رکھتے
(۵۷)ایسا ہی جُل عبارت کا کشاف سے کھیلا اس کی اصل عبارت یہ ہے:
|
فان قلت کیف جاز لھم ان یسجد والغیر اﷲ قلت کانت السجدۃ عندھم جاریۃ مجری التحیۃ والتکرمۃ کالقیام و المصافحۃ وتقبیل الید ونحوھا مما جرت علیہ عادۃ الناس من افعال شہرت فی التعظیم والتوقیر [2]۔ |
یعنی اگر تو کہے یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام اور ان کے بیٹوں کو غیر خدا کے لئے سجدہ کیسے جائز ہوگیا تو میں کہوں گا ان کے یہاں سجدہ تحیت کا رواج تھا جیسے قیام(مصافحہ ودست بوسی وغیرہ افعال تعظیم وتوقیر جن کا لوگوں میں رواج ہے۔ |
اسے یہ بنالیا کہ ص ۱۳"سجدۂ تعظیمی قرن اول سے جاری ہے"اول تو رواج حال میں سجدہ کا نام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع